🥰
*شہزادوں کا امتحان*
*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*
*قسط نمبر 09*
اُس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کا نام لے کر آگ کے دریا کی طرف بڑھ گیا۔
جوں ہی تلوار حفاظتی حصار سے ٹکرائی تو ہر طرف دھماکے ہونے لگے۔ شہزادے نے اپنے قدم نہ روکے اور آگ کے دریا میں قدم رکھ دیا۔ آگ کے شعلوں سے رونے، چیخنے اور بین کرنے کی آوازیں آنے لگیں۔ شہزادے نے آنکھیں بند کر لی تھیں اور تیزی سے چلتا جا رہا تھا۔ آگ کا دریا عبور کرتے کرتے وہ تھک گیا تھا۔ اب اُس کے سامنے بڑے بڑے ہیبت ناک کالے پہاڑ تھے، جن سے پہلے کئی میل لمبی دلدل تھی۔ دلدل سے سفید دھواں اُٹھ رہا تھا اور اس کی تپش شہزادے کو محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے پھر اللہ کو یاد کیا اور دلدل میں کود گیا۔ سفید دھواں زرد ہونے لگا، پھر اس کا رنگ سرخ ہو گیا اور شہزادے کو دکھائی دینا بند ہونے لگا۔ اُس نے دوبارہ اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ وہ دلدل کے اُوپر اس طرح چل رہا تھا، جیسے زمین پر چلا جاتا ہے۔ پہاڑوں تک پہنچنے کا سفر طے کرتے کرتے ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ اب شہزادے کو کالے ناگ والا غار تلاش کرنا تھا۔ تھکن سے اُس کا برا حال تھا، اس وقت اُس نے آرام کرنا مناسب نہ سمجھا۔ تلوار شہزادے کے دائیں ہاتھ میں چمک رہی تھی۔ اُسے اپنے کانوں میں انہی بزرگ کی آواز سنائی دی:
"شہزادے! آنکھیں بند کر کے سیدھے چلتے رہو۔ ہزار قدم کے بعد تم ایک پہاڑ کی چوٹی پر ہو گے۔ چوٹی پر تلوار سے ضرب لگاؤ گے تو غار نمودار ہو جائے گا۔"
شہزادے نے بزرگ کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے ایک ہزار قدم چل کر آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو ایک بلند پہاڑ کی چوٹی پر پایا۔ اندھیرے کی وجہ سے تلوار میں زیادہ چمک آ گئی تھی، جس کی روشنی میں اُس نے چوٹی پر ضرب لگائی۔ اس کے ضرب لگاتے ہی پہاڑ اپنی جگہ سے سرکنے لگا اور ایک بڑا غار نمودار ہو گیا۔ غار کے اندر سے ناگ کی خوف ناک پھنکار سنائی دے رہی تھی۔ اس پھنکار سے پورا غار کانپ رہا تھا۔ غار کے اندھیرے میں صرف ناگ کی موٹی موٹی سرخ آنکھیں چمکتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ غار کے کانپنے سے شہزادے کو اپنا توازن برقرار رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔ تلوار اوپر نیچے حرکت کر رہی تھی اور اسے سنبھالنا ضروری تھا۔ شہزادے نے تلوار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔
ناگ نے شہزادے کو دیکھ کر اپنا پھن پھیلا لیا اور اس پر حملے کے لیے تیار ہو گیا۔ شہزادے نے تلوار آگے کر رکھی تھی۔ ناگ نے ایک جست لگائی اور شہزادے کو اپنے ساتھ لیتا ہوا غار سے باہر آ گرا۔ اُس کی موٹی دم شہزادے کے جسم کے ساتھ لپٹنے لگی۔ شہزادے کی دونوں ٹانگیں ناگ کی گرفت میں آ چکی تھیں۔ اُس نے بڑی آسانی سے شہزادے کو زمین سے اُٹھا لیا اور رینگتا ہوا دوبارہ غار میں داخل ہو گیا۔ شہزادے کا نچلا دھڑ مکمل طور پر ناگ کے قابو میں تھا۔ ناگ نے حملہ کرتے وقت شہزادے کو سنبھلنے کا موقع تک نہ دیا تھا۔ ناگ نے اسے غار کے اندر لا کر زور سے زمین پر پٹخا تو تلوار اُس کے ہاتھ سے نکل کر دور جا گری۔ تلوار کے بغیر وہ بالکل بے کار ہو چکا تھا۔
*بہادر شہزادے کا نیا امتحان*
بہادر شہزادہ چاروں طرف سے لوگوں کے نرغے میں تھا، جن کے تیور خطرناک معلوم ہوتے تھے۔ اسی وقت ایک طرف سے ایک بلند قامت آدمی نمودار ہوا، جسے دیکھتے ہی لوگوں نے اُس کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔ وہ سیدھا شہزادے کے پاس آ کر رک گیا۔ اُس کے ہاتھ میں بڑا سا خنجر تھا۔ مردہ ریچھ کو دیکھ کر وہ شش و پنج میں پڑ گیا تھا کہ میں اجنبی کو دوست سمجھوں یا دشمن؟ پھر وہ تحکمانہ لہجے میں بولا:
"تم کون ہو اور رات کے اس وقت تم یہاں کیا کر رہے ہو؟"
"میں یہاں اپنی بستی کے لوگوں کو چھڑانے آیا ہوں، جنہیں تم نے اپنے پاس قید کر رکھا ہے۔" شہزادے نے اپنی تلوار کو مردہ ریچھ کی کھال سے صاف کرتے ہوئے کہا۔
"اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ہمارے دشمن ہو!" اُس آدمی نے غصیلے لہجے میں کہا۔
"نہیں! ایسا نہیں ہے۔ میں تمہیں نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔" شہزادے نے صلح جوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا۔
"ہا ہا ہا! تم ہمیں کیا نقصان پہنچاؤ گے؟ ہم نے تمہارے جیسے کئی چوہوں کو شکست دی ہے!" آدمی نے تحقیر آمیز لہجے میں کہا۔
"دیکھیں! آپ جو کوئی ہیں، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ بس میری بستی کے لوگوں کو رہا کر دیں تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا!" شہزادے نے دلیری سے اپنا ایک پاؤں مردہ ریچھ پر رکھتے ہوئے کہا۔ سارے لوگ بڑی توجہ سے دونوں کی باتیں سن رہے تھے۔
"میں یہاں کا سردار ہوں، شاید تمہیں میرے بارے میں کسی نے نہیں بتایا!" سردار نے خنجر پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا تو شہزادے نے بھی تلوار سیدھی کر لی۔
"میں جانتا ہوں کہ تم ایک ظالم انسان ہو، لیکن تمہاری خیر اسی میں ہے کہ میرے ساتھ تعاون کرو!"
سردار، شہزادے کی باتیں سن کر تلملا اُٹھا: "تمہاری یہ جرات کہ مجھے للکارو!" یہ کہہ کر سردار نے شہزادے کے دل کا نشانہ لے کر اپنا خنجر زور سے اُس کی طرف اچھال دیا۔
شہزادہ پہلے سے اس حملے کے لیے تیار تھا۔ وہ فوراً نیچے بیٹھ گیا اور خنجر سیدھا پیچھے کھڑے شخص کے سینے میں اُتر گیا۔ اُس کی خوف ناک چیخ سے فضا گونج اٹھی اور وہ نیچے گر کر تڑپنے لگا۔ سردار اپنے حملے کو خطا ہوتے دیکھ کر پھر گیا اور ایک شخص سے تلوار لے کر دوبارہ شہزادے کی طرف بڑھا۔ اُس کا پہلا وار بڑا سخت تھا۔ شہزادے نے اپنی کلائی تلوار پر جما کر اس کے وار کو روکا، جس سے دونوں تلواروں کے ٹکرانے کی آواز بلند ہوئی۔
شہزادے نے چیخ کر کہا: "میں تمہیں مارنا نہیں چاہتا، میری بات سن لو!" لیکن بھرا ہوا سردار شہزادے پر تابڑ توڑ حملے کرنے لگا۔ سارے لوگ پیچھے ہٹ کر یہ مقابلہ دیکھ رہے تھے۔ انہیں اپنے سردار کی فتح کا یقین تھا، اس لیے کسی نے اس لڑائی میں مداخلت کرنی ضروری نہ سمجھی۔
شہزادے نے ابھی تک سردار پر حملہ نہیں کیا تھا، جس کی وجہ سے سردار سمجھ رہا تھا کہ وہ حملہ کرنا نہیں جانتا۔ پھر شہزادے نے للکار کر کہا: "سردار! اب سنبھلو! لگتا ہے تمہارا آخری وقت آ گیا ہے۔"
یہ کہہ کر شہزادے نے تلوار کے ایک ہی وار سے اُس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ لوگ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سردار کی تڑپتی ہوئی لاش دیکھ رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر سردار کے دونوں بیٹے اپنی اپنی تلواریں کھینچ کر مقابلے کے لیے آگے بڑھے۔ پہلے تو شہزادے نے انہیں بھی بہت سمجھایا، مگر اپنے باپ کی موت کے بعد وہ سخت غصے میں تھے۔ آخرکار ان کا بھی وہی حشر ہوا جو تھوڑی دیر پہلے اُن کے باپ کا ہوا تھا۔
اب لوگوں میں شہزادے کا خوف پیدا ہونے لگا۔ شہزادے نے دوبارہ اپنی تلوار کو ریچھ کی کھال سے صاف کیا اور بولا:
"میں اب بھی تم لوگوں سے کہتا ہوں، قیدیوں کو رہا کر دو!"
ایک بوڑھا شخص آگے بڑھا:
"بیٹے! ہم قیدیوں کو تمہارے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تم نے ہمیں ظالم سردار اور اس کے بیٹوں سے نجات دلا کر ہم پر احسان کیا ہے۔"
اتنی دیر میں چند اور لوگ بھی شہزادے کے نزدیک آ گئے اور باقی تماشہ دیکھنے لگے۔
شہزادہ پوری طرح چوکنا تھا۔ اُس نے کہا: سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں چلے جائیں۔ صرف یہ بوڑھا میرے ساتھ قید خانے تک جائے گا۔ سب لوگ آپس میں باتیں کرتے ہوئے گھروں کی طرف چل پڑے اور صرف بوڑھا آدمی شہزادے کے پاس رہ گیا۔ شہزادہ اسے اپنے ساتھ لے کر بستی سے باہر آیا، جہاں اُس کا گھوڑا اور قیدیوں کی بستی کا نوجوان موجود تھے۔ شہزادے نے سارا واقعہ اُسے سنایا تو اُس کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔ بوڑھا اُنہیں ساتھ لے کر ایک غار کی طرف روانہ ہو گیا۔
غار کے سامنے چار پہرے دار اپنے ہاتھوں میں تلواریں لیے ہوشیار کھڑے تھے۔ اُن لوگوں کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اُن میں سے ایک دوڑتا ہوا اُن کی طرف آیا: "کیا بات ہے! یہ لوگ کون ہیں؟" اُس نے بوڑھے کو پہچان کر سوال کیا۔ بوڑھے نے سردار اور اُس کے بیٹوں کی موت کے بارے میں سب کچھ بتایا اور قیدیوں کو فوراً رہا کرنے کا حکم دیا، لیکن اُسے یقین نہ آیا۔ اُس نے تلوار سیدھی کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو مدد کے لیے بلایا تو وہ دوڑتے چلے آئے: تم نے ہمیشہ سردار کی مخالفت کی ہے، ہم تمھاری بات پر کیسے یقین کریں؟ یہ نہ ہو کہ ہم اُنہیں چھوڑ دیں اور اس جرم میں ہمیں قتل کر دے؟
وہ تلوار سونت کر بوڑھے کے سامنے آ گیا تو شہزادے کو مداخلت کرنی پڑی: پیچھے ہٹ کر بات کرو، یہ کچھ کہہ رہا ہے، وہ بالکل ٹھیک ہے۔ اگر تم آرام سے نہیں مانتے تو تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک کرنا پڑے گا! شہزادے نے کڑک کر کہا تو وہ اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ چاروں نے شہزادے کو گھیر لیا۔ قیدیوں کی بستی کا نوجوان ڈرتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا اور بوڑھا بھی ایک طرف ہو گیا۔ شہزادے نے اپنا وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اُس نے اُنہیں قتل کرنے کے بجائے زخمی کر دیا۔ چاروں پہرے داروں کو اُٹھا کر غار کے سامنے لایا گیا اور بوڑھے نے اُن کی مرہم پٹی کر دی۔
اس کے بعد غار کے سامنے سے رکاوٹیں ہٹا کر قیدیوں کو باہر نکالا جانے لگا۔ تمام قیدی پہلے تو حیران و پریشان، ڈرتے ڈرتے باہر آئے، لیکن اُن کی بستی کے نوجوان نے شہزادے کی بہادری کا تمام واقعہ سنا دیا، جو پل بھر میں ایک دوسرے کی زبانی سب کو معلوم ہو گیا، تو وہ خوشی سے رقص کرنے لگے۔ ظالم سردار کی موت اُن کے لیے نئی زندگی سے کم نہ تھی۔ اُنہوں نے شہزادے کو کندھے پر اُٹھا لیا اور اپنی بستی کی طرف روانہ ہو گئے۔ شہزادے نے بوڑھے اور زخمی پہرے داروں کو اُن کی بستی کی طرف چلنے کا حکم دے دیا تھا، تاکہ وہ اپنے نئے سردار کا انتخاب کر سکیں۔
قیدیوں نے اپنی بستی میں پہنچ کر پہلے تین دن خوب جشن منایا اور شہزادے کو اپنا سردار بنانے کا اعلان کر دیا۔ شہزادہ سب سے پہلے اُنہیں اُس پرانی بستی میں لے گیا، جسے سردار کے خوف سے چھوڑ کر وہ لوگ یہاں آ بسے تھے۔ سب لوگوں نے نئے سرے سے بستی کی تعمیر کی۔ بستی کے چاروں طرف وسیع زمینیں خالی پڑی ہوئی تھیں۔ شہزادے نے اپنے ساتھ لائے ہوئے قیمتی پتھروں کو بیچ کر دوسری بستیوں سے جانور اور غلہ وغیرہ منگوائے۔ اس کے بعد شہزادے نے اُن کو کاشت کے طریقے سکھائے۔ چند ہفتوں بعد بستی کے گرد پھیلی ہوئی زمینیں مختلف فصلوں سے لہلہا رہی تھیں۔ آہستہ آہستہ بستی کے لوگ خوش حال اور صحت مند ہونے لگے۔ اس دوران شہزادے نے نوجوانوں کی ایک فوج تیار کر لی، جو ہتھیاروں سے لیس تھی۔ اُس نے اُنہیں جنگ کے طریقے سکھا کر بہادر اور طاقت ور بنا دیا تھا۔
ایک دن شہزادہ اپنے فوجیوں کو تربیت دے رہا تھا کہ اسی بستی کا وہی بوڑھا ہانپتا کانپتا آ پہنچا، جن سے شہزادے نے قید لوگوں کو چھڑایا تھا۔ بوڑھا بہت تھکا ہوا تھا اور اُس سے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔ ایک نوجوان نے اسے پانی پلایا تو اُس کے حواس قابو میں آئے۔ اس نے شہزادے کو بتایا کہ دو بستیوں کے لوگوں نے مل کر ہماری بستی پر حملہ کیا ہے اور لوٹ مار کر کے سب کچھ لے گئے ہیں۔ میری تجویز پر ہماری بستی کے سردار نے مجھے تمھارے پاس مدد حاصل کرنے کے لیے بھیجا ہے، تاکہ ہم ان ظالموں سے بدلہ لے سکیں۔
شہزادے نے اپنی بستی کے چند بڑے لوگوں کو مشورے کے لیے بلایا۔ اُنہوں نے شہزادے کو مشورہ دیا کہ ان کی مدد کے لیے کچھ شرائط رکھی جائیں، تاکہ ہمیں بھی فائدہ حاصل ہو۔ سب سے بڑی شرط یہ تھی کہ وہ اپنی بستی کے گرد پھیلی ہوئی بے کار زمینیں ہمیں دیں گے۔ اس کے علاوہ ان بستیوں سے جو کچھ حاصل ہوگا، اُس میں سے دونوں کو آدھا آدھا حصہ ملے گا۔ بوڑھے نے تمام شرائط تسلیم کر لیں۔
شہزادے نے اپنی بستی کے دو آدمی حملہ آور بستیوں کی جانب روانہ کیے تاکہ وہ جنگ کے بغیر سامان واپس کر دیں تو لڑائی سے بچ جائیں اور انسانی جانیں ضائع نہ ہوں تو بہتر ہے۔ مگر دونوں آدمی ناکام واپس آئے۔ اُلٹا اُنہوں نے جنگ کی دھمکی دے دی۔
شہزادے نے اپنے لشکر کو تیار رہنے کا حکم دے دیا۔ اُسے خطرہ تھا کہ کہیں وہ لوگ پہلے حملہ کر کے فصلوں کو نقصان نہ پہنچا دیں۔ بستی کے تربیت یافتہ فوجیوں کو اپنی طاقت آزمانے کا موقع مل رہا تھا اور وہ جنگ کے لیے بے تاب تھے۔
صبح کے وقت یہ لشکر حملہ آور بستیوں کی طرف چل پڑا۔ راستے میں اُس بستی کے نوجوان بھی ساتھ شامل ہو گئے جہاں لوٹ مار کی گئی تھی۔ دوسری دونوں بستیاں ساتھ ساتھ واقع تھیں۔ دونوں بستیوں کے سرداروں کو اُن کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی۔ وہ بھی اپنے جنگجوؤں کے ساتھ باہر آ گئے۔
شہزادے نے اُنہیں لوٹا ہوا مال و اسباب واپس کرنے کے لیے کہا۔ اُنہوں نے صاف انکار کر دیا اور دھمکی دے دی کہ اب تمھاری بستی پر حملے کا نمبر آ گیا ہے۔ شہزادہ اپنے لشکر میں سب سے آگے تھا۔ ان کی باتیں سُن کر اسے افسوس ہونے لگا۔ پھر اچانک اُن لوگوں نے شہزادے کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ یہ تو پہلے سے تیار تھے۔
پھر وہ زوروں کی لڑائی ہوئی کہ ہر طرف تباہی پھیلنے لگی۔ چیخوں کی آوازوں سے فضا گونجنے لگی۔ دوسری بستیوں کے لوگ، جو شہزادے کی بستی اور اُن کی خوش حالی سے جلتے تھے، وہ بھی موقع دیکھ کر اپنی اپنی فوجیں لانے لگے، جس سے جنگ بڑھتی جا رہی تھی۔
جب شہزادہ میدان میں اترا تو اُس کے فوجی بڑی بہادری سے لڑ رہے تھے۔ اُن کی سخت تربیت کی وجہ سے تھکن کے آثار بالکل نظر نہ آتے تھے۔ شہزادے نے تیزی سے دشمنوں پر حملے شروع کر دیے۔ اُنہیں سنبھلنے کا موقع دیے بغیر شہزادہ تابڑ توڑ حملے کرنے لگا۔ آخر شام تک جنگ کا فیصلہ ہو گیا۔ دوسری بستیوں کے زیادہ تر لوگ بھاگ چکے تھے اور پیچھے رہ جانے والے زخمی ہو کر گرے ہوئے تھے۔
لُٹی ہوئی بستی کے لوگوں نے اپنا سامان برآمد کر کے آدھا حصہ شہزادے کی بستی کے حوالے کر دیا۔ رات تک شہزادے کی فوج نے ساری بستیوں پر قبضہ کر لیا اور وہاں کے لوگوں کو پرسکون زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ یہ ساری بستیاں ایک ملک کے برابر تھیں۔
اتنی زیادہ بستیوں کا نظام سنبھالنے کے لیے شہزادے کو طویل وقت درکار تھا۔ اُس نے تمام بستیوں کو یک جان کرنے کے لیے بڑے بڑے راستے بنائے، جن پر سفر آسان ہو گیا تھا۔ شہزادے نے ہر بستی سے نوجوانوں کو شامل کر کے ایک بڑی فوج تیار کر لی تھی۔ آخری بستی ایک دریا کے کنارے پر واقع تھی۔ دریا پر جانے کے بعد شہزادہ اُس کے پانی سے فائدہ اُٹھانے کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔
*جاری ہے ۔۔۔۔۔////*
🌹♥️🌸🌼