*رمضان المبارک اور سائنسی نکتۂ نظر*

رمضان المبارک محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے وجود کی مکمل تربیت کا مہینہ ہے، بظاہر روزہ کھانے پینے سے رک جانے کا عمل نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی جسم، دماغ اور روح کے درمیان ایک حیرت انگیز توازن قائم کرتا ہے، جب انسان طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے تو وہ صرف عبادت نہیں کر رہا ہوتا بلکہ اپنے نفس، اعصاب اور شعور کو ایک منظم نظام کے تحت لا رہا ہوتا ہے، جدید سائنس بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ انسان کا جسم وقفہ وار بھوک (Intermittent Fasting) کے ذریعے خود کو ازسرِ نو ترتیب دیتا ہے، یہ وہ حقیقت ہے جس پر غور کیا جائے تو عقل خود سوال کرتی ہے کہ روزہ محض عبادت نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے۔
سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ جب انسان کئی گھنٹے تک کھانے سے رکتا ہے تو جسم میں ایک عمل شروع ہوتا ہے جسے Autophagy کہا جاتا ہے، یعنی جسم اپنے خراب اور مردہ خلیات کو خود صاف کرنا شروع کر دیتا ہے، گویا روزہ جسم کے اندر صفائی کا ایسا نظام چلاتا ہے جو کسی دوا یا علاج سے ممکن نہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے اس نظام کو عبادت کا درجہ دے دیا،جبکہ سائنس آج اس کے فوائد دریافت کر رہی ہے، یہ اور ایسی تحقیق انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ روزہ دراصل جسمانی تجدید کا قدرتی معجزہ ہے۔
دماغی اعتبار سے دیکھا جائے تو روزہ انسان کی توجہ، یادداشت اور ذہنی سکون میں اضافہ کرتا ہے، جب معدہ مسلسل مصروف نہیں رہتا تو جسم کی توانائی دماغ کی طرف منتقل ہوتی ہے، جس سے سوچنے کی صلاحیت واضح اور گہری ہو جاتی ہے، اسی لیے رمضان میں عبادت، تلاوت اور غور و فکر میں عجیب لذت محسوس ہوتی ہے، سائنس کہتی ہے کہ بھوک کے دوران دماغ میں ایسے کیمیائی مادے پیدا ہوتے ہیں جو ذہنی بیداری بڑھاتے ہیں، یہ حقیقت عقل کو جھنجھوڑ دیتی ہے کہ جس عبادت کو ہم صرف صبر سمجھتے ہیں وہ دراصل شعور کی بیداری کا ذریعہ ہے۔
نفسیاتی نقطۂ نظر سے روزہ انسان کو خواہشات کا غلام بننے سے بچاتا ہے، جدید ماہرینِ نفسیات کے مطابق خود پر قابو پانے کی مشق انسان کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہے، روزہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ چاہے تو اپنی بنیادی ضرورت کھانے اور پانی پر بھی قابو پا سکتا ہے، تو پھر گناہ اور برائی سے رکنا کیوں مشکل ہو؟ یہی ضبطِ نفس انسان کو اخلاقی بلندی عطا کرتا ہے، یہ اور ایسی سائنسی و نفسیاتی حقیقتیں واضح کرتی ہیں کہ روزہ انسان کو اندر سے آزاد کرنے کا نظام ہے۔
طبی ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ روزہ نظامِ ہاضمہ کو آرام دیتا ہے، شوگر لیول کو متوازن کرتا ہے، موٹاپے کو کم کرتا ہے اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں کمی لاتا ہے، مسلسل کھانے سے تھکا ہوا جسم رمضان میں ایک منظم شیڈول کے ذریعے اپنی اصل فطری حالت کی طرف لوٹتا ہے، گویا روزہ انسان کو اس کی فطرت سے دوبارہ جوڑ دیتا ہے، یہ تحقیق انسان کو حیران کر دیتی ہے کہ جس عبادت کو فرض کہا گیا وہ دراصل انسانی صحت کا مکمل ضامن بھی ہے۔
روحانی اعتبار سے روزہ انسان کے اندر احساسِ ذمہ داری اور ہمدردی پیدا کرتا ہے، جب ایک مالدار شخص بھی بھوک محسوس کرتا ہے تو اسے غریب کی تکلیف سمجھ آتی ہے، یوں معاشرے میں رحم، سخاوت اور مساوات جنم لیتی ہے، سائنس کہتی ہے کہ مشترکہ احساسات معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں، اور رمضان یہی اجتماعی شعور پیدا کرتا ہے، یہ حقیقت سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ روزہ فرد ہی نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کا بھی سائنسی و روحانی نظام ہے۔
آخرکار سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا روزہ صرف عبادت ہے؟ یا یہ انسان کی جسمانی صحت، ذہنی توازن، نفسیاتی مضبوطی اور روحانی پاکیزگی کا مکمل پروگرام ہے؟ جب مذہب اور سائنس ایک ہی حقیقت پر متفق نظر آئیں تو انسان کا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ حکم کسی انسانی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی حکمت ہے، یہ اور ایسی حقیقتیں انسان کی عقل کو جھکا دیتی ہیں کہ روزہ دراصل انسان کو انسان بنانے کا الٰہی راز ہے۔
ایک عظیم سائنسدان اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جب کبھی میں خود کو ذہنی طور پر غیر متوازن، تھکا ہوا یا طبیعت میں چڑچڑاپن محسوس کرتا ہوں تو میں کچھ وقت کے لیے کھانا پینا کم کر دیتا ہوں اور خود کو بھوکا پیاسا رکھتا ہوں، وہ مزید کہتا ہے کہ اس عمل کے بعد میرے خیالات میں وضاحت پیدا ہو جاتی ہے، طبیعت میں سکون آ جاتا ہے اور ذہنی توازن دوبارہ بحال ہو جاتا ہے، گویا وہ اس حقیقت کا قائل تھا کہ انسان کا جسم صرف خوراک سے نہیں بلکہ کبھی خوراک سے رکنے سے بھی طاقت حاصل کرتا ہے۔
مشہور فرانسیسی نوبل انعام یافتہ سائنسدان Alexis Carrel نے
معروف کتاب *Man the Unknown* میں لکھا ہے کہ جب انسان کچھ وقت تک کھانے پینے سے رُک جاتا ہے تو جسم کے اندر ایک قدرتی صفائی کا نظام فعال ہو جاتا ہے، اس دوران جسم پرانے، کمزور اور فاسد خلیات کو ختم کر کے نئے اور صحت مند خلیات پیدا کرتا ہے، جس سے جسمانی طاقت اور بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے، سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ نظامِ ہضم کو آرام دیتا ہے، جسم میں جمع زہریلے مادّوں کو خارج کرتا ہے، اضافی چربی کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے اور ذہنی سکون و یکسوئی پیدا کرتا ہے، آج جس طریقے کو جدید میڈیکل سائنس Intermittent Fasting کے نام سے صحت کے لیے مفید قرار دے رہی ہے، اسلام نے اسی اصول کو روزے کی صورت میں چودہ سو سال پہلے انسان کی روحانی اور جسمانی بھلائی کے لیے مقرر کر دیا تھا۔

                 *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*