کتنے احسان ہیں خدا کے ہم پر، کبھی پڑھ کر سورۃ رحمٰن دیکھنا
کبھی رات کی خاموشی میں، جب دنیا سو جاتی ہے اور دل اپنے رب کے سامنے تنہا رہ جاتا ہے، تب ذرا ٹھہر کر سوچنا…
ہم پر کتنے احسان ہیں خدا کے۔
ہم نے شاید گناہوں کی فہرست تو یاد رکھی، مگر نعمتوں کی گنتی کبھی نہیں کی۔
ہم نے شکایتیں تو بہت کیں، مگر شکر کے آنسو کم بہائے۔
جب انسان سورۃ الرحمن پڑھتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ربِّ کریم خود مخاطب ہو کر اپنی نعمتیں یاد دلا رہا ہو۔
بار بار آنے والی آیت
"فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان
دل پر دستک دیتی ہے۔
گویا پوچھ رہی ہو:
اے انسان!
آخر کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
سوچو… وہی رب ہے جس نے ہمیں ماں کی گود کی محبت دی، باپ کی شفقت دی، دوستوں کی ہنسی دی، آنکھوں کو خواب دیے اور دل کو امید دی۔
جب ہم ٹوٹے، اُس نے سنبھالا۔ جب ہم روئے، اُس نے سکون دیا۔ جب سب راستے بند نظر آئے، اُس نے کوئی نہ کوئی در کھول دیا۔
ہمیں سانسیں مفت ملتی ہیں، روشنی مفت ملتی ہے، بارش رحمت بن کر برستی ہے، زمین ہمیں تھامے رکھتی ہے، آسمان سایہ کیے رہتا ہے — اور ہم پھر بھی کبھی کبھی کہتے ہیں: “میرے پاس کیا ہے؟”
سورۃ الرحمن ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی صرف آزمائش نہیں، انعام بھی ہے۔
ہر دکھ کے ساتھ کوئی نہ کوئی آسانی چھپی ہوتی ہے۔ ہر اندھیرے کے بعد روشنی آتی ہے۔ اور ہر کمزوری کے پیچھے رب کی کوئی حکمت ہوتی ہے۔
کبھی دل سے، آہستہ آہستہ، آنسوؤں کے ساتھ سورۃ الرحمن پڑھ کر دیکھنا…
ایسا لگے گا جیسے دل کی گرد صاف ہو رہی ہو، جیسے رب قریب آ گیا ہو، جیسے ساری شکایتیں خود ہی شرمندہ ہو کر چلی گئی ہوں۔
تب احساس ہوگا کہ ہم کتنے مالا مال ہیں، اور کتنے ناشکرے بھی۔
واقعی… کتنے احسان ہیں خدا کے ہم پر۔
بس ضرورت ہے دل کی آنکھ کھول کر دیکھنے کی، اور زبان کو شکر سے تر رکھنے کی۔
عائشہ