لو رمضان آ گیا اے میرے دوست!
تم پر سلامتی ہو اے میرے دوست!
لو رمضان آ پہنچا، اور تم گناہوں اور زخموں سے بوجھل ہو۔
اپنے دل کے سوراخ بھر لو، اپنی روح کے ٹوٹے حصے جوڑ لو،
اپنی آرزوؤں کی سواری رب کے دروازے پر بٹھا دو،
اور اس سے کہو:
اے میرے رب! تیرا خطاکار بندہ تیرے پاس لوٹ آیا ہے،
تیری دوری نے اسے بے چین کر دیا، فاصلے اس کی کمر توڑ گئے۔
اے اللہ! تیرے اور بھی بندے ہیں، مگر میرا تیرے سوا کوئی رب نہیں۔
تو ہی میرا سہارا، تو ہی میری سمت، تو ہی میری روح کا قبلہ ہے۔
مجھ پر اہلِ معرفت کے دروازے کھول دے،
مجھے توبہ کرنے والوں میں قبول کر لے،
مجھے قیام کرنے والوں میں لکھ دے،
اور مجھے روزہ داروں کے ساتھ اٹھا۔

لو رمضان آ گیا اے میرے دوست!
یہ وہ مہینہ ہے جس میں گلے پیاسے ہوتے ہیں مگر دل سیراب ہوتے ہیں،
پیٹ خالی ہوتے ہیں مگر روحیں بھر جاتی ہیں،
جسم کمزور ہوتا ہے مگر ایمان مضبوط ہو جاتا ہے،
حرکت کم ہو جاتی ہے مگر عقیدہ مضبوطی پکڑ لیتا ہے۔
پس اے میرے دوست! اپنا ایمان تازہ کر لو،
اللہ کو ہمارے کھانے پینے کے چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں،
وہ تو رمضان ہمیں پاک کرنے کے لیے بھیجتا ہے،
تاکہ ہمیں دھو کر دوبارہ قابل بنا دے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا حصہ صرف بھوک اور پیاس ہی رہ جائے!
رمضان کوئی ڈائٹ پلان نہیں،
رسول ﷺ کے طریقے پر یہی تمہارا آرام بھی ہے اور ٹھکانہ بھی،
اور تم جو سفر کی مشقت سے زخمی ہو،
اپنا بوجھ اللہ کے پاس رکھ دو!
کیونکہ تم اللہ سے ہو، اللہ کے ساتھ ہو، اور اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہو۔

لو رمضان آ گیا اے میرے دوست!
اگر بھوک تمہیں تھکا دے اور پیاس تمہیں نڈھال کر دے،
تو ان لوگوں کو یاد کر کے تسلی حاصل کرو
جنہوں نے اپنی بھوک اور پیاس کے باوجود تلواریں اٹھائیں،
اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھیں،
اور اپنا خون اللہ کے لیے دے دیا،
تاکہ ہمارے لیے رمضان باقی رہے۔

رمضان معرکۂ بدر ہے؛ جب اسلام نے پہلی بار قرآن کے دفاع میں تلوار اٹھائی، اور یہ تلوار بے نیام ہی رہے گی یہاں تک کہ اِس اُمت کے آخری دجال کو تہِ تیغ کر دیا جائے۔
رمضان فتحِ مکہ ہے؛ جب شہر نے اپنی پہچان واپس پائی، توحید کا دارالحکومت بنا، اور اعلان ہوا: جاؤ تم سب آزاد ہو!
اور بلالؓ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر پکار اٹھے: اللہ اکبر!!
رمضان قادسیہ ہے؛ جہاں سعد بن أبي وقاص اور ابو محجن تھے، اور جب فتح کی خوشخبری پہنچی تو عمر بن الخطاب نے پوچھا: لڑائی کتنی دیر جاری رہی؟
لوگوں نے کہا: فجر سے عصر تک۔
تو انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ! باطل اتنی دیر حق کے سامنے کیسے ٹھہر سکتا ہے؟
شاید یہ کسی گناہ کا اثر ہو جو تم سے یا مجھ سے سرزد ہوا ہو۔
رمضان بلاط الشہداء ہے؛ جہاں عبد الرحمن الغافقي پیرس سے ستر کلومیٹر کے فاصلے پر کھڑے ہو کر دعا کرتے ہیں:
اے اللہ! میرے خون سے راضی ہو جا۔
رمضان فتحِ عموریہ ہے؛ جب المعتصم بالله ایک مظلوم عورت کی عزت کی خاطر غصے سے لبریز لشکر لے کر یہ دعا کرتے ہوئے نکلے۔
اے اللہ! ہماری عزت ہمیں پھر لوٹا دے۔
رمضان عین جالوت ہے؛ جہاں المظفر قطز اور تاتاری آمنے سامنے تھے، جہاں مجاہدوں نے زمین پر روزہ رکھا اور جنت میں جا کر افطار کیا۔
رمضان شقحب کی جنگ ہے؛ جہاں ابن تيمية اور ابن القيم صفِ اوّل میں موجود تھے، جہاں یہ حقیقت واضح ہوئی کہ صرف قلم خون کا بدل نہیں بن سکتا، اور صرف فقہ جہاد کی جگہ نہیں لے سکتی۔

لو رمضان آ گیا اے میرے دوست!
یہ دلوں کو چھاننے والا مہینہ ہے،
پس اپنے دل کو پاک کر لو،
اور خبردار! ایسا نہ ہو کہ تم اس سے اسی دل کے ساتھ نکل جاؤ جس دل کے ساتھ اس میں داخل ہوئے تھے۔
اور تمہارے دل پر سلامتی ہو۔

﴿عربی تحریر: أدهم شرقاوي﴾
﴿قطر کے اخبار صحيفة الوطن القطرية میں شائع﴾
مترجم - عبید وسیم
متعلم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
٢٢؍فروری؁٢٠٢٦ء مطابق ٤؍رمضان‌المبارک؁١٤٤٧ھ