تبصرہ برکتاب 
بنام "مقالات نعمانی"

کاوش : حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم العالیہ 

صفحات:393

تبصرہ نگار: گل رضاراہی ارریاوی 

کتاب دوستی ایک ایسا ذوق ہے جس سے ایک نفیس طبیعت سکون وسرور پاتاہے ،اس کی محفل بن جاتی ہے ،ہنگامہ آرائی اس کے ذوق میں کوئی خلل اندازی نہیں کرپاتا،وہ ہر سطر کو اپنا ایک سفر سمجھتا ہے ،حروف ومعانی کی عشوہ طرازی اس کو عطر بیزی کا فن سکھلاتاہے ، مشک عنبر وہ خوشبو پیدا نہ کرسکے جو کتاب کا ایک عنوان انسان کے ذہن میں پیدا کر دیتا ہے ، وہ واقعہ قابل ذکر ہےجو متاع وقت اور کاروان علم میں مذکور ہے 
کہ !محدث العصر علامہ انور شاہ کشمیر اپنے علالت میں تھے اور طبیب حاذق نے انہیں کچھ دنوں کےلیے مطالعہ سے منع کردیا تھا کچھ لمحہ تو توقف کیا مگر بعد میں حضرت شاہ صاحب سےرہا نہیں گیا اور وہ کتاب لے کر بیٹھ گیے پھر انہماک کے ساتھ مطالعہ میں مصروف ہوگیے ،ادھر آپ کے شاگرد مفتی شفیع صاحب وعلامہ شبیر احمد عثمانی رح اور دیگر حضرات کو معلوم ہواتو سب گھر کی طرف لپکے اور صورت حال دیکھی تو شاگرد نے اپنے استاذ رح سے محبت و الفت میں یہ کہنے لگے !
حضرت اولا تو علم کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو آپ سے خالی ہو پھر بھی اگر کچھ ہے بھی تو اس حالت میں کیا ضرورت تھی ،اگر ضرورت تھی بھی تو ہم خادم کس لیے ہیں حکم دیتے تو تلاش کرلیتا 
اس موقع پہ شاہ صاحب نے یہ جملہ کہا !
"مطالعہ ہی میرا اصل مرض ہے"

تو ہمارے اکابر کا مرض ہی مطالعہ تھاجس سے انہیں سکون ملتا تھا -
تاریخ میں ایسے لوگوں کا ایک مستقل باب ہے، جس میں بلا تفریق مسلم وغیر مسلم کے کئی سو صفحات کا یومیہ مطالعہ کامعمول تھا-
یہ سب باتوفیق لوگ تھے جوعلمی دنیا میں اپنا نام روشن کرگیے اور بعد میں آنے والوں کے لیے نمونۂ عمل چھوڑ گیے-
بفضل اللہ وعونہ کچھ سالوں سے راقم عاصی بھی کچھ ورق گردانی کی کوشش کررہاہےاور دل میں مخفی باتوں کو الفاظ کا جامہ پہنا کر دل کی بھڑاس نکال رہاہے تاکہ یہ قدم جو آج لڑکھڑا رہاہے کل کو جرأت و بے باکی کے ساتھ دوڑ سکے
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں 
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے

راقم کی کسی کتاب پر یہ دوسرا تبصرہ ہے-

"مقالات نعمانی "حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم العالیہ کی مختلف موضوعات کا ایک خزینہ ہے، جس کو حضرت مہتمم صاحب نے بے شمار مصروفیت کے باوجود بڑی عرق ریزی اور جانکاہی سے انجام دیا ہے اس کا ہر موضوع لاجواب ہے اور اس کی پوری تحقیق حضرت دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی ہے-
 اس کے اندر صحابہ کرام کے متعلق علمائے دیوبند کا نظریہ پیش کیاگیا اور صغیر السن میں کون سے صحابہ کرام آپ کے آغوش تربیت میں آۓ ان کو شمار کرایا گیا ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا انداز بتلایا گیا ہے،فتنوں کا تعاقب ،گنبد خضری تاریخ کے مختلف دور میں، روضۂ اقدس کی تعمیر ،اسی طرح مختلف علمی شخصیات کا مختصر تعارف اور کچھ خصوصیات کو اجاگر کیا گیا ہے ، مختلف کتابوں کا تعارف بھی کرایا گیا ہے جن میں علامہ ذہبی کی سیر اعلام النبلا ،علامہ شبلی نعمانی رح کی سیرت النبی،لامع الدراری ،گویا کہ اس کتاب کے اندر ضرورت کے لحاظ سے بے شمار موضوعات ہمیں دستیاب ہو جاتے ہیں ،یہ کتاب یقینا سہل للفظ بھی ہے پڑھنے والوں کے لیے معلومات کاخزانہ بھی ،کتاب ظاہری اور معنوی دونوں اعتبار سے خوبیوں کا حامل ،قابل ستائش اورلائق تحسین ہے یہ کتاب ٣٩٣ صفحات پر مشتمل ہےـ
یہ کتاب حوالہ کی موتیوں سے مزین بھی ہے جس کی وجہ سے یہ کتاب مزید قابل اعتنا ہوگیا ہے-

 اولا تو یہ کتاب حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے نام سے ہی منسوب ہوجانا کافی تھا لیکن؛ حوالہ جات نے اس کی خوبیوں میں مزید اضافہ کیا ہے حضرت کی اور بھی کئی کتابیں منصۂ شہود پر آکر مقبول عام ہوچکی ہیں موجود ہیں اور یہ اس میں مزید اضافہ ہے 
اللہ تعالی حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور ان کو مزید صحت تندرستی عطا فرمائے اور ان کا سایۂ عاطفت تادیر قائم و دائم فرمائے آمین