“مدرسہ یا دکان؟ — دین کے نام پر تجارت اور ضمیر کا محاسبہ”
بسم اللہ الرحمن الرحیم
     مضمون (88)
دین اسلام میں سب سے پہلی بنیاد اخلاص ہے۔ عمل چاہے عبادت ہو یا خدمتِ خلق، اگر نیت خالص نہ ہو تو وہ عمل اللہ کے ہاں بے وزن ہو جاتا ہے۔ مدارسِ دینیہ کا قیام بھی اسی اخلاص کا عملی مظہر ہے؛ یہ وہ ادارے ہیں جہاں نہ تجارت ہونی چاہیے، نہ منافع، نہ نمود و نمائش، بلکہ صرف دین کی خدمت، علم کی اشاعت اور نسلِ نو کی روحانی و اخلاقی تربیت مقصود ہونی چاہیے۔
مگر افسوس! آج کچھ مدارس ایسے بھی ہیں جو نام تو دین کا لیتے ہیں، مگر نظام تجارت کا چلاتے ہیں۔ فیس بھی پوری، ماہانہ بھی لازمی، اور اس کے باوجود چندہ بھی در بدر۔ اور اگر کوئی طالب علم فیس نہ دے سکے تو دروازہ بند، داخلہ منسوخ، اور عزتِ نفس پامال۔سننے میں یہاں تک آیا ہے — اور یہ محض افواہ نہیں بلکہ تلخ حقیقت ہے — کہ ماہانہ نہ ادا کرنے پر بچوں سے مدرسے کے باورچی خانے، صفائی اور دیگر کام کرائے جاتے ہیں، بچوں اور ان کے سرپرستوں پر ذہنی دباؤ ڈالا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ “مدرسے سے نکال دینے” کا ٹارچر کیا جاتا ہے، برا بھلا کہا جاتا ہے، لعن طعن کی جاتی ہے، اور خوف کے ذریعے خاموش کر دیا جاتا ہے۔
یہ کیسا علم ہے جو عزت چھین لے؟ یہ کیسا دین ہے جو بچوں کو مزدور بنا دے؟ یہ کیسی تربیت ہے جو فیس نہ ہونے پر انسان کو مجرم بنا دے؟
اور اس سب کے بعد بھی زبان سے یہ جملہ ادا کیا جاتا ہے:
“یہ کوئی چندہ کا مدرسہ نہیں!”
یہ جملہ نہیں، ضمیر پر تیزاب ہے۔ یہ وضاحت نہیں، سچ کا قتل ہے۔
یہ اعلان نہیں، کھلی منافقت ہے۔
اسلام نے مالی معاملات میں جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا ہے وہ ہے امانت اور عدل۔
قرآن کریم کہتا ہے:
“إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا”
بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت تک پہنچاؤ: (سورۃ النساء، آیت 58) 
مدرسہ امانت ہے، چندہ امانت ہے، طلبہ کی زندگیاں امانت ہیں، اور سب سے بڑھ کر دین کا نام امانت ہے۔
اگر کوئی مدرسہ واقعی کمزور ہے، وسائل محدود ہیں، رعایتی فیس لیتا ہے، اساتذہ کی تنخواہیں پوری نہیں ہوتیں، کھانے پینے اور رہائش کا انتظام مشکل سے چلتا ہے، تو وہاں چندہ نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجر ہے۔ ایسے مدارس امت کا سرمایہ ہیں، ان کا سہارا بننا عبادت ہے۔
لیکن وہ مدارس:
جو مکمل فیس لیتے ہیں، تمام اخراجات فیس سے پورے کرتے ہیں،
فیس نہ دینے پر طالب علم کو نکال دیتے ہیں،
اور پھر بھی چندہ مانگتے ہیں —تو یہ خدمت نہیں، دھوکہ ہے۔ یہ دین نہیں، کاروبار ہے۔ یہ مدرسہ نہیں، دکان ہے۔ یہاں طالب علم طالبِ علم نہیں رہتا، قیدی بن جاتا ہے۔ یہاں فیس بل نہیں رہتی، سزا بن جاتی ہے۔ یہاں مدرسہ درسگاہ نہیں رہتا، نفسیاتی اذیت گاہ بن جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“مَن غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا”
جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں( مسلم. كتاب الإيمان: 283) 
یہ دھوکہ صرف فرد سے نہیں، پوری امت سے ہے۔
یہ صرف پیسے کا مسئلہ نہیں، دین کی عزت کا مسئلہ ہے۔ اگر منتظمین فیس اور چندے کی آڑ میں ذاتی منافع کمائیں، اپنی گاڑیاں، اپنے گھر، اپنی آسائشیں انہی رقوم سے پوری کریں، تو یہ محض بددیانتی نہیں بلکہ خیانتِ دین ہے۔ یہ وہ پارسا نما ڈاکو ہیں جن کے ہاتھ میں تسبیح، زبان پر اللہ، مگر دل میں صرف حرص و ہوس کا راج ہے۔ _ یہ وہ لوگ ہیں جو غریب بچے کو داخلہ دیتے وقت مسکرا کر بات کرتے ہیں، مگر فیس نہ ملنے پر اسی بچے کو ذلیل کرتے ہوئے نہیں کانپتے۔ یہ اسٹیج پر تقویٰ کی بات کرتے ہیں اور دفتر میں بچوں کے مستقبل پر دستخط سے پہلے صرف رقم دیکھتے ہیں، کردار نہیں۔
اگر ذاتی مدرسہ چلانا ہے تو کھلے دل سے کہو:
یہ ادارہ فیس پر چلتا ہے، تجارتی ہے، چندہ نہیں لیتا۔
مگر دوسروں کو بدنام مت کرو، اصل مدارس پر کیچڑ مت اچھالو،
علماء کی عزت کو نیلام مت کرو، اور دین کے نام پر لوٹ مار بند کرو۔
یاد رکھو!
لوگ خاموش ہو سکتے ہیں، امت غافل ہو سکتی ہے، مگر اللہ غافل نہیں۔
قرآن کہتا ہے:
“وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ”
(سورۃ ابراہیم، آیت 42) 
یہ مت سمجھو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے. 
مدرسہ مسجد کا بھائی ہے، اور مسجد تجارت کی جگہ نہیں ہوتی۔
جو مدرسہ واقعی مستحق ہے، اس کی مدد عبادت ہے۔ اس کا تعاون سہارا بننا صدقۂ جاریہ ہے۔ جو ادارہ اخلاص سے چل رہا ہو، اس پر خرچ کرنا صرف آخرت کا ہی نہیں، دنیا اور آخرت دونوں کا سرمایہ ہے۔
جو مدرسہ فقر میں بھی دیانت رکھے، اس کی مدد اللہ کی مدد کو کھینچ لاتی ہے۔
جو جگہ علم بانٹتی ہو، وہاں مال لگانا دراصل خود کو سنوارنا ہے۔
جو مدرسہ تجارت نہیں، خدمت ہو — اس پر دیا گیا ہر روپیہ دعا بن جاتا ہے۔ اور جو مدرسہ فیس کے باوجود چندہ کھاتا ہے، وہ خدمت نہیں بلکہ ڈاکہ ہے۔
یہ وقت ہے اپنے گریبان میں جھانکنے کا۔ یہ وقت ہے ضمیر کو جگانے کا۔ یہ وقت ہے یہ طے کرنے کا کہ ہم مدرسہ چلا رہے ہیں یا دین بیچ رہے ہیں؟ اللہ ہمیں سچے خادم بنائے،پارسا نما ڈاکو بننے سے بچائے،
اور دین کو تجارت نہیں بلکہ امانت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com