رمضان محض ماہِ ایام نہیں، یہ تو بہارِ جاوداں ہے، یہ فصلِ گلِ ایمان ہے، یہ موسمِ نزولِ انوار ہے۔ یہ وہ مبارک ساعتِ دلنواز ہے جس کے اشتیاق میں روح مدتوں بے تاب و بیقرار رہتی ہے، اور قلبِ مضطرب میں ایک عجیب سی کششِ نہاں اور شوقِ دروں کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
رمضان کی آمد سے قبل دل کے آنگن میں نسیمِ جانفزا چلنے لگتی ہے، احساس کے گلشن میں عطرِ محبت پھیل جاتا ہے، اور باطن کی دنیا میں ذوقِ وصال کی بے کلی جاگ اٹھتی ہے۔ یہ مہینہ محض روزہ و افطار کا نہیں، بلکہ تجدیدِ عہدِ بندگی اور ترتیبِ نو کا پیامبر ہے۔
رمضان کا انتظار دراصل ایمان کی زندگی کی علامت ہے۔ جب بندہ اپنے شب و روز کا محاسبۂ نفس کرتا ہے، اپنے معمولات پر نظرِ ثانی کرتا ہے، اپنے اعمال کے دفتر کو کھول کر دیکھتا ہے، اور اپنی غفلتوں کے غبار کو دھونے کی فکر میں لگ جاتا ہے—تو گویا رمضان کی دستک سنائی دیتی ہے۔
چاند کی جستجو میں دل امید کے چراغ جلاتا ہے۔ جب خبرِ ہلال آتی ہے تو روح فرحاں و شاداں ہو جاتی ہے، دل میں مسرت کی کیفیت جاگ اٹھتی ہے، اور فضا میں سرشاری و کیف کی لطیف موجیں دوڑ جاتی ہیں۔ گویا آسمانِ رحمت سے مغفرت کے پروانے نازل ہو رہے ہوں، اور زمین پر لطفِ ربانی کے دروازے کھل گئے ہوں۔
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں بندہ قربِ الٰہی کے ذوق سے آشنا ہوتا ہے۔ یہ ایمان و احتساب کے حسین مقدمات کا موسم ہے۔ عبادت کی لذت دوبالا ہو جاتی ہے، دعا کی تاثیر بڑھ جاتی ہے، اور دل کے نہاں خانوں میں نورِ یقین کی شمع فروزاں ہو جاتی ہے۔
یہ ماہِ مبارک ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ زندگی محض عادتوں کا نام نہیں، بلکہ عبادتوں کی خوشبو سے سنورنے والی حقیقت ہے۔ رمضان دل کے زنگ دھونے، نفس کی کدورت مٹانے، اور باطن کے گلشن کو انوارِ ربانی سے معمور کرنے کا مہینہ ہے۔
پس خوش نصیب ہیں وہ قلوب جو رمضان کے استقبال میں بیدار ہوں، اور کامیاب ہیں وہ ارواح جو اس ماہِ کریم میں اپنے رب کے حضور سرخرو و سرفراز ہو جائیں۔ رمضان ایک عظیم مہمان ہے—چند روز کے لیے آتا ہے، مگر اپنے ساتھ رحمت، برکت، مغفرت اور فیضانِ جاوداں کے خزانے لاتا ہے۔
اللہم بلغنا رمضان، و اجعلنا فیہ من المقبولین، و ارزقنا حلاوۃ الإیمان و لذۃ القرب و نورَ الیقین۔
از قلم ۔مصعب پالنپوری