رمضان میں سفیرانِ مدارس کی توقیر اور امت کی اخلاقی ذمہ داری
بسم اللہ الرحمن الرحیم. مضمون (86)
ماہِ رمضان صرف روزے، تراویح اور افطار کا نام نہیں؛ یہ مہینہ دراصل قربانی، ایثار، ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری کا عملی امتحان ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں بندہ اپنی بھوک کے ذریعے دوسروں کی بھوک کو سمجھتا ہے، اپنی پیاس کے ذریعے دوسروں کی پیاس کو محسوس کرتا ہے، اور اپنی عبادت کے ذریعے اپنے معاشرے کے دینی مستقبل کا بھی فکر مند ہوتا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، جس میں فرضیتِ زکواۃ کی روح_(شریعت میں یہی مہینہ ادائیگی کے لیےمخصوص(نہیں۔)عملی صورت اختیار کرتی ہے، اور جس میں انسان اپنے مال، وقت اور آرام کو اللہ کے دین پر قربان کرنے کا حقیقی مفہوم سمجھتا ہے۔ رمضان فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ امت کی تعمیر کا مہینہ ہے، اور اسی اجتماعی ذمہ داری کے احساس کے تحت اہلِ مدارس دین کی خدمت کے لیے سفر پر نکلتے ہیں۔ اسی مقدس مہینے میں اہلِ مدارس، وہ خاموش مجاہد، وہ بے صدا سپاہی، اپنے گھروں کے سکون، اپنی عارضی عزت، اور اپنی ذاتی سہولتوں کو چھوڑ کر شہر شہر، گلی گلی سفر کرتے ہیں۔ یہ سفر سیاحت (گھومنا پھرنا) نہیں، یہ سفارت ہے؛ یہ مانگنے کا نہیں، مان بچانے کا سفر ہے؛ یہ ذاتی مفاد کا نہیں، امت کے مستقبل کو سنوارنے کا سفر ہے۔ مگر افسوس کہ یہی مسافرِ دین سب سے زیادہ تحقیر، شبہ، اور بے حسی کا شکار ہوتے ہیں۔ اہلِ مدارس کی زندگی کوئی آسان زندگی نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تنخواہیں مہینوں رکی ہوتی ہیں، جن کے گھروں میں عید کی خوشیاں رمضان کی آمدنی سے مشروط ہوتی ہیں، جن کے بچے باپ کی واپسی پر نئے کپڑوں سے زیادہ مسکراہٹ کے منتظر ہوتے ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود یہ لوگ در در بھٹکتے ہیں، دروازوں پر دستک دیتے ہیں، اور اپنی انا کو اپنے مشن کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ معاشرے میں کچھ جعلی، کچھ موقع پرست اور کچھ ناسمجھ عناصر بھی ،
موجود ہوتے ہیں جو زکواۃ اور تعاون کے نام پر دھوکا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ یقیناً قابلِ گرفت ہیں، ان کی نشاندہی بھی ضروری ہے اور جرم ثابت ہونے پر سزا بھی ہونی چاہیے۔ مگرچند غلط لوگوں کی وجہ سے سب کو مشکوک سمجھنا، ہر آنے والے کو ذلیل کرنا، بد اخلاقی سے پیش آنا اور بلا وجہ ہراساں کرنا نہ اخلاق ہے، نہ دینداری۔اللہ معاف کرے ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پورے طبقے کو مشکوک بنا دیا جاتا ہے ۔ ہر آنے والے عالم کو پہلے مجرم سمجھا جاتا ، ہر سفیرِ مدرسہ کو پہلے تفتیشی کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے ، اور پھر بعض جگہوں پر تصدیق کے نام پر ایسی ذلت آمیز رسومات سے گزارا جاتا کہ گویا وہ مدد مانگنے نہیں بلکہ جرم کرنے آیا ہو۔ اور زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہی سلوک اکثر ان لوگوں کی طرف سے ہوتا ہے جو خود مدارس ہی کی پیداوار ہوتے ہیں، جو کسی مسجد یا منصب پر فائز ہو کر ایسی انا کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان کے سامنے سب جاہل اور وہ خود “شیخ الوقت” بن جاتے ہیں۔ نہ گفتگو کا سلیقہ، نہ اخلاق کی خوشبو، نہ دردِ امت کا احساس۔
الغرض :چند ہی خوش نصیب صاحبِ ثروت ایسے ہوتے ہیں کہ کوئی یاد دلائے یا نہ دلائے، وہ اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں۔ خواہ ادائیگی کا نظام کتنا ہی قابلِ تعریف ہو یا نہ ہو، ان کے نزدیک اصل اہمیت فرض کی ادائیگی کی ہوتی ہے۔ بس ضروری یہ ہے کہ یہ عمل کسی کی تذلیل یا توہین کا سبب نہ بنے، کیونکہ نیکی عزت کے ساتھ ہو تو ہی حقیقی نیکی کہلاتی ہے۔لیکن یہ حقیقت بھی ماننا پڑے گا کہ آج امت مال کی محبت میں مبتلا ہو چکی ہے۔ زکواۃ جو فرض ہے، صدقہ جو سعادت ہے، تعاون جو شرافت ہے — یہ سب اب “یاد دلانے” سے نکلتا ہے۔ لوگ خود نہیں دیتے، بلکہ جب تک بار بار دروازہ نہ کھٹکھٹایا جائے، دل کے بند در نہیں کھلتے۔ اس لیے سفر ضروری ہے، سفارت ناگزیر ہے، اور یہ سب دین کی خدمت کے لیے ہے، نہ کہ ذاتی فائدے کے لیے۔ اگر واقعی یہ علماء اپنے مفاد کے لیے ہوتے تو نہ اتنے طویل سفر کرتے، نہ ذلت برداشت کرتے، نہ رمضان جیسے قیمتی مہینے کو اجنبی شہروں میں گزارتے۔ یہ تو اس لیے کرتے ہیں کہ مدرسہ خوشحال ہو، طلبہ کا مستقبل محفوظ ہو، اور امت کا دینی چراغ روشن رہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں زکواۃ کو محض انفرادی عبادت نہیں بلکہ اجتماعی نظام قرار دیا ہے:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا
(التوبہ: 103)
“اے نبی! ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجیے، تاکہ آپ ان کو پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں۔”
یہ آیت واضح اعلان ہے کہ صدقہ خود بہ خود انتظار میں نہیں بلکہ ذمہ دار افراد کے ذریعے لیا جائے گا۔ یعنی دین میں وصولی کا نظام بھی ہے، سفارت بھی ہے، اور باقاعدہ ذمہ داری بھی۔ اسی طرح فرمایا:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ...
(التوبہ: 60)
یہ آیت زکواۃ کے پورے اجتماعی ڈھانچے کو بیان کرتی ہے، جو فرد نہیں بلکہ ادارہ چاہتا ہے، نظم چاہتا ہے، اور ایک فعال نظام کا تقاضا کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ. 
جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے، کم (اکھٹے) کرلے یا زیادہ کرلے۔“ (صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2399) 
یہ حدیث ذاتی مفاد کے لیے سوال کی مذمت کرتی ہے، مگر دین کے لیے، مستحقین کے لیے، اور اجتماعی ضرورت کے لیے سوال کرنا نہ صرف جائز بلکہ فرض کی تکمیل ہے۔
اسی لیے حضور ﷺ خود زکواۃ وصول کرنے کے لیے عامل مقرر فرمایا کرتے تھے:
نبی ﷺ نے ایک شخص کو زکواۃ کا عامل بنایا، اس کا نام ابن اتبیّہ تھا:
اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْأُتْبِيَّةِ عَلَى الصَّدَقَةِ، 
(صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2597) 
"نبی ﷺ نے ایک شخص کو صدقہ (زکواۃ) پر عامل نمائندے سفیر مقرر فرمایا۔" 
جب حضور ﷺ کی وفات کے بعد کچھ قبائل نے کہا کہ “ہم نماز پڑھیں گے مگر زکواۃ نہیں دیں گے”، تو حضرت ابوبکرؓ نے اعلان فرمایا:
وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ , وَالزَّكَاةِ،
“اللہ کی قسم! میں اس سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکواۃ میں فرق کرے گا۔”(صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1400) 
یہ اعلان بتاتا ہے کہ زکواۃ کا نظام توڑنا محض مالی جرم نہیں بلکہ دینی بغاوت ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے باقاعدہ عامل مقرر کیے، علاقوں میں بھیجا، اور زکواۃ وصول کروائی۔ یہی اصل سفارت تھی، یہی شرعی سفر تھا، اور یہی امت کی اجتماعی ذمہ داری کا عملی نمونہ تھا۔
حضرت عمرؓ کے دور میں بیت المال ایک مکمل ادارہ تھا۔ عاملین مقرر تھے، حساب و کتاب تھا، علاقے تقسیم تھے، اور لوگ خود نہیں بلکہ نمائندوں کے ذریعے دیتے تھے۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ:
دین کے لیے سفر کرنا سنت ہے. تعاون طلب کرنا شرعی نظام کا حصہ ہے اور علماء کا در در جانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ سیرتِ صحابہ کا تسلسل ہے
. عصرِ حاضر کی حقیقت. 
آج کے مدارس اسی نبوی اور صدیقی منہج کے وارث ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ریاست تھی، اب ادارے ہیں۔ پہلے خلافت تھی، اب مدارس ہیں۔ مگر مقصد وہی ہے:
دین کی بقا، نسل کی اصلاح، اور امت کی فکری حفاظت۔ اگر آج علماء سفر نہ کریں تو ہزاروں طلبہ کی تعلیم رک جائے، اساتذہ بھوکے رہ جائیں، اور دینی سلسلہ کمزور پڑ جائے۔
اے امتِ مسلمہ!
رمضان کے مسافروں کو فقیر نہ سمجھو، یہ دراصل تمہارے ایمان کے امین ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کشکول نہیں، تمہارے بچوں کا مستقبل ہے۔ ان کی زبان پر سوال نہیں، امت کا درد ہے۔ ان کی خاموشی کمزوری نہیں، شرافت ہے۔
قرآن نے لینے کا حکم دیا،
نبی ﷺ نے عامل مقرر کیے،
ابوبکرؓ نے زکواۃ پر جنگ کی،
اور ہم آج اسی کو “معیوب” سمجھنے لگے؟
اگر کہیں شبہ ہو تو تحقیق کرو، مگر ادب کے ساتھ۔ اگر کہیں غلطی ہو تو روک دو، مگر اخلاق کے ساتھ۔ مگر یاد رکھو: تحقیر دین کی خدمت نہیں، اور بدگمانی تقویٰ نہیں۔ ماہِ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ بھوکے کو کھانا دو، مسافر کو سہارا دو، اور داعی کو عزت دو۔
اگر ہم نے سفیرانِ مدارس کو رسوا کیا، تو دراصل ہم نے اپنے ہی دینی مستقبل کو ذلیل کیا۔ اور جو قوم اپنے محسنوں کی قدر نہ کرے، تاریخ اسے صرف ایک ہجوم کے طور پر یاد رکھتی ہے — ایک باشعور امت کے طور پر نہیں۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com