جب خاموشی بولنے لگتی ہے!


اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ قلم صرف روشنائی پھیلاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ قلم وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان اپنے آپ سے ملتا ہے۔

ایک وقت تھا جب میرے سینے میں لفظوں کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مارتا تھا، مگر ہونٹوں پر سکوت کا پہرا تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ معاشرہ کہاں جا رہا ہے، میں محسوس کرتا تھا کہ درد کہاں ہے، لیکن میں خاموش تھا۔ پھر ایک رات، جب تنہائی اپنے عروج پر تھی، میں نے ایک پرانا کاغذ اٹھایا اور اپنی بے چینی کو لفظوں کی شکل دے دی۔

یاد رکھیے!

مضمون نگاری صرف حرف و بیان کا کھیل نہیں، یہ تو ضمیر کی آواز ہے۔

جب آپ لکھتے ہیں، تو آپ اکیلے نہیں ہوتے، آپ کے ساتھ ہزاروں وہ لوگ بول رہے ہوتے ہیں جنہیں زبان نہیں ملی۔

جب آپ کا قلم کاغذ پر چلتا ہے، تو وہ صرف سیاہی نہیں چھوڑتا، بلکہ وہ کسی اندھیرے میں دیے کی لو جلاتا ہے۔

میں نے سیکھا کہ ضروری نہیں کہ آپ کے الفاظ بہت بھاری بھرکم ہوں، ضروری یہ ہے کہ وہ سچے ہوں۔ اگر آپ کا ایک جملہ کسی ٹوٹتے ہوئے دل کو سہارا دے دے، یا کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھا دے، تو سمجھ لیں کہ آپ کی مضمون نگاری کا حق ادا ہو گیا۔

آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میرا قلم میری زبان سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا۔ اس نے مجھے وہ پہچان دی جو شور و غل نہیں دے سکا۔

اے لکھنے والے!

اپنے خیالات کو قید نہ کرو۔ کاغذ اٹھاؤ، قلم پکڑو اور لکھ ڈالو! کیا پتا تمہارا ایک چھوٹا سا مضمون کسی کی پوری زندگی بدل دے۔ کیونکہ یاد رکھو، تحریر کبھی مرتی نہیں، وہ دلوں میں زندہ رہتی ہے۔میرا قلم ابھی خاموش نہیں ہوا، کیونکہ ابھی بہت سے سچ لکھنا باقی ہیں۔ اگر آپ بھی لفظوں کی اس تاثیر اور سچائی کے سفر میں میرے ہم سفر بننا چاہتے ہیں، تو اس پیج کو 'فالو' کریں اور اپنی رائے سے مجھے حوصلہ دیں۔ یاد رکھیں، آپ کا ایک 'لائک' میری راتوں کی محنت کا بہترین صلہ ہے۔

✍️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی