یحییٰ سنوار کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔اپنے پرائے سب ہی تو واقف ہیں ،آخر واقفیت کیوں نہ ہو 
قدس کا محافظ ۔
غزہ کی ماؤں بہنوں کا محافظ ۔
لوگوں نے کہا کہ سنوار چھپا ہوا ہے ۔
مگر وہ تو غزہ کے کھنڈرات میں گن اٹھائے کھڑا تھا ۔
کسی نے کھا وہ تو پر آسائش زندگی گزار رہا ہے ۔
مگر وہ تو کبھی بھوک کے ساتھ کبھی تو پیٹ پر پتھر باندھ کر غزوہ خندق مسلمانوں کو یاد دلا رہا تھا ۔
آج سنوار ہم میں نہیں مگر یادیں زندہ ہیں ۔
سنوار ہم میں نہیں ۔مگر اس کی گرج سے دشمن ابھی تک نہیں سنبھلا۔
وہ ہم میں نہیں مگر اس کا دیا سبق یاد ہے ۔
سنوار تو اب بھی زندہ ہے مگر ہمیں شعور نہیں ۔
(ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء ولکن) (لا تشعرون
کسی نے کہہ دیا کہ سنوار نے غزہ کو جنگ میں جھونک کر خود راہ فرار اختیار کی ۔
غرض جتنے منہ اتنی باتیں ۔
مگر سنوار نے تو سب کے دعوے غلط کردیئے۔
آپ بھی غزہ کے شہداء کے کیلئے ایک مرتبہ الحمد شریف ۔چاروں قل  پڑھ کر ایصال ثواب کر دیجیے ۔
اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے 
 ۔آمین