اے وادی کشمیر ٫
اے خون سے تر ٫
اے ارض مقدس ٫
!اے مسلمانوں کی بے حسی ہے نوحہ کناں
!میں آج دل پر پتھر رکھ کر٫ تجھے یہ بات کرنے لگا ہوں
اے وادی تو ہمارا انتظار چھوڑ دے ٫ ہم بے حسی کی آخری حدوں کو بھی کراس کر چکے ہیں ٫
ہاں ہم تو مسجد اقصیٰ کے لئیے بھی نہیں نکلے ٫
ہم بابری مسجد کے لئیے بھی نہیں نکلے ٫ 
ہم کیوں نکلیں ٫ آخر کیوں ؟
وہ اور تھے جو ایک بہن کی پکار پر سلطنت تک قربان کر دیا کرتے ٫
وہ اور تھے جو مسلمان تو مسلمان کافرہ عورت کی عزت کی خاطر بھی میدان میں کود جاتے٫
ہاں ہم نے تو عافیہ صدیقی کو بھی آرام سے بیچ دیا ٫
ہم تو قبلہ اول کے آنسوں بھی خاطر میں نہ لائے٫

اے مایوس )                        ٫)
!دیکھنا ایک دن میرے بھائی آئیں گے ٫ ایک دن آئے گا 
میری مائیں بہنیں اپنے بچوں کو لوری کی جگہ جنگی گیت سنائیں گیں ٫
قدس کی فضاء میں آزادانہ اذان دی جائے گی ٫ 
ایک دن آیئے گا ہر مسلمان کے سینے پر اسلحہ ہوگا٫ 
عافیہ اگر زندہ رہی تو آزاد ہو گی ٫ ورنہ انتقام لیا جائے گا ٫ 
ہر کشمیری بہن کا ٫ ہر عراقی بہن کا 
بوسنیا، چیچنیا ٫ برما اندلس ہم نہیں بھولے ٫ ہاں ہم غافل ضرور ہیں ٫ مگر آپ نے ہمیں یا د دلا دیا ٫ 
ہاں ہم نہیں بھولے گئیں ٫ ہر گز نہیں بھولیں گے!٫
!شایدتونے حماس کو بھولا دیا
!شاید تونے احمد الشرع الجولانی کے قصے نہیں سنے
تو نے افغانستان میں امارات کا سفید لہراتا پرچم نہیں دیکھا شاید؛
کیا تو صومالیہ میں الشباب کے تذکرے نہیں سنتا ٫
اے وادی کشمیر ایک دن صبح ہو گی 
آزادی کی صبح ٫ 
روشن صبح ٫
دلنشین صبح ٫
چڑیوں کی چہچہاہٹ سے آراستہ صبح٫
جلد ہی تجھے سنائ دیں گے ٫ آزادی کے نغمے ٫
انشاللہ