حیدرآباد میں علم و محبت کی ایک روح پرور شام
✍🏻خامہ بکف محمد عادل ارریاوی
______________________________
گزشتہ شب حیدرآباد کی زرخیز زمیں پر قدم رکھنے سے قبل ہی حضرت مفتی تسلیم الدین صاحب کا فون آیا دریافت فرمایا آپ کب تک تشریف لا رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ ان شاءاللہ چند ہی لمحوں میں پہنچ جاؤں گا قیام گاہ پر پہنچ کر تازہ دم ہوا پھر حیدرآبادی لذیذ بریانی سے خوب لطف اندوز ہوا اس کے بعد نماز ادا کی اور کچھ وقت عبادت میں مشغول رہا تقریباً رات بارہ بجے حضرت مفتی تسلیم الدین صاحب کا دوبارہ فون آیا اور ملاقات کی خواہش کا اظہار فرمایا مجھے بھی حضرت مفتی صاحب سے ملاقات کی بے حد خواہش تھی چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں حضرت مفتی صاحب تشریف لائے اور ہم دونوں ایک جگہ موسمّی کا جوس نوش فرما کر تازگی حاصل کی اس کے بعد حضرت مفتی صاحب مجھے اپنی قیام گاہ محمدی مسجد کے دوسری منزل میں واقع ادارہ وفاق المکاتب لے گئے یہ ادارہ علمائے کرام کی نگرانی میں حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں تقریباً ڈھائی ہزار مکاتب چلا رہا ہے جہاں کئی ہزار بچوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ مکمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں مختلف اقسام کی بے شمار کتب ڈریس اور دیگر تعلیمی لوازمات کا انتظام دیکھ کر مجھے دلی مسرت اور خوشی محسوس ہوئی۔
حضرت مفتی صاحب کے ساتھ علمی فکری اصلاحی اور دیگر متنوع موضوعات پر تقریباً چار سے پانچ گھنٹے طویل گفتگو کا موقع ملا جو میرے لیے نہایت خوشی اور سعادت کی بات ہے یہ قیمتی لمحات میں ہمیشہ اپنی یادوں میں محفوظ رکھوں گا ان شاءاللہ۔
حضرت مفتی تسلیم الدین صاحب ایک عظیم عالم دین نیک سیرت اور صاحب تقویٰ مفتی ہیں آپ کئی کتب کے مصنف ہیں ایک بہترین مضمون نگار اور بے شمار اوصافِ حمیدہ کے حامل ہیں ماشاءاللہ۔ مجھے اس وقت مزید خوشی ہوئی جب حضرت مفتی صاحب نے محبت و عنایت کے طور پر اپنی قیمتی کتب مجھے ہدیۃً عطا فرمائیں یہ تحفہ میرے لیے بے حد مسرت اور سعادت کا باعث ہے
اللہ ربّ العزّت سے دلی دعا ہے کہ وہ حضرت مفتی صاحب کو ہمیشہ کامیابی و کامرانی عطا فرمائے انہیں شاد و آباد خوش و خرم اور سلامت رکھے اور ہمیں ان کے علم و فیض سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا ربّ العالمین۔