شبِ برأت:فضائل،حقائق اور غلط فہمیاں


ازقلم :مفتی محمد سلمان قاسمی کریم نگری


خالقِ کائنات نے اپنے بے انتہاء فضل و کرم سے ہم سیاہ کاروں کو غفلت سے بیدار کرنے کے لئے سال کے مختلف مہینوں اور مختلف شب و روز میں ایسی انگنت برکتیں اور خصوصیات رکھی ہیں جس میں ایک مسلمان کو قدرے محنت و مشقت سے نہ صرف اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے بلکہ ایسے مواقع گناہوں کی بخشش اور دنیوی و اخروی فوائد حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن جاتے ہیں جنکا حصول دیگر ایام و اوقات میں طویل جدو جہد کے بعد ناممکن تو نہیں لیکن دشوار ضرور ہوجاتا ہے، انہی مبارک ایام میں ماہِ شعبان اور خصوصاً اس ماہ کی پندرہویں شب یعنی شبِ برأت ہے۔جس رات کی احادیثِ مبارکہ میں فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔

زمانۂ رواں میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ دین و شریعت سے ناواقفیت یا غفلت کی وجہ سے ان مبارک راتوں میں نازل ہونے والی اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں اور برکتوں سے محروم ہوتا جارہا ہے لیکن مسئلہ صرف اتنا ہی ہوتا تو کوئی جرم نہیں تھا بلکہ معاملہ یہاں تک آپہنچا ہے کہ پچھلے دو چار سالوں سے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد سوشل میڈیا پر اس رات یعنی شبِ برات کی فضیلت سے متعلق پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں سے متاثر ہوکر نہ صرف شب برات کی حقیقت کا انکار کررہی ہے بلکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرام اور سلف صالحین سے ثابت شدہ فضائل،اعمال وآداب کو نظر انداز کررہی ہے گویا کہ شبِ برأت کے سلسلے میں اکثر لوگ افراط و تفریط کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔
اسی کے پیش نظر ذیل میں شبِ برأت سے متعلق حقائق، نقطۂ اعتدال اور غلط فہمیوں کا ازالہ احادیث کی روشنی میں ذکر کیا جارہا ہے۔


فضائلِ شبِ برأت احادیث کی روشنی میں

قارئین کرام! یہ ایک طئے شدہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت وغفران کا نزول ہر رات کے آخری حصے میں ہوتے رہتا ہے لیکن پندرہویں شعبان کی شب میں نزولِ رحمت کا آغاز مغرب کے وقت سے ہی ہوجاتا ہے اور یہ رحمت و مغفرت کا سلسلہ طلوعِ فجر تک جاری رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ شبِ برأت بے شمار خصوصیات برکات اور فضائل کی حامل ہے چنانچہ ذیل میں چند احادیث پیش کی جارہی ہے


:پہلی حدیث
١)حضرت معاذ بن جبل رض سے مروی ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: يطلع الله إلى خلقه فى ليلة النصف من شعبان فيغفر لجميع خلقه إلا لمشرك أو مشاحن.ترجمہ: شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور سوائے مشرک اور کینہ پرور کے سب کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔(صحیح ابن حبان ٤٨١/١٢ مجمع الفوائد ٦٥/٨)اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد شیخ البانی فرماتے ہیں کہ اسکے رجال ثقہ(قابلِ اعتماد) ہیں اور حدیث صحیح ہے۔اس حدیث سے صاف معلوم ہوجاتا ہیکہ شبِ برأت کو بلاشبہ ایک فضیلت حاصل ہے اور یہ بات بے اصل نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں( احکام شعبان وشب برأت تحقیق کے آئینے میں ص/١٢)

:دوسری حدیث 
٢)حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا پندرہ شعبان کی شب اللہ رب العزت اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور تمام مومنین کی مغفرت فرما دیتے ہیں اور کافرین کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں اور کینہ پرور کی جب تک کہ وہ اس سے باز نہ آئے مغفرت نہیں فرماتے(العجم الکبیر رقم الحدیث: ٥٩٠)

:تیسری حدیث
٣) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو بستر پر نہ پایا تو پریشان ہوئیں اور تلاش کرتی ہوئی مدینہ کے قبرستان ” جنت البقیع “ کی طرف نکل گئیں ۔ وہاں دیکھا کہ آپ موجود ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ اللہ تعالی شعبان کی درمیانی شب ( پندرھویں شب ) میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور بنو کلب ( ایک قبیلہ جو عرب کے تمام قبائل میں سب سے زیا وہ بکریاں پالتا تھا) کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔
 (ترمذی١٥٦/١, مسند احمد ٣٣٨/٦)اس کے علاوہ اور متعدد معتبر کتب میں مختلف صحابہ سے منقول روایتیں شبِ برات کی فضیلت کو ثابت کرتی ہیں جن میں اللہ تعالی کی اپنے بندوں کی طرف بخشش اور رحمت کاخصوصی نزول ہوتا ہے.(شب برأت ایک تحقیقی جائزہ ص/10)

بہرحال ان روایات کے موجود ہوتے ہوئے شب برأت کی فضیلت کا انکار کرنا اور اسے بے اصل یا لوگوں کی پیداوار قرار دینا صحیح نہیں ہے کیونکہ جس چیز کی فضیلت کا اعلان زبانِ نبوت نے کر دیا وہ اگر ہماری عقلِ نارساں کے ہم آہنگ ہو یا نہ ہو بہرحال فضیلت والی ہوگی یہی وجہ ہیکہ ہر زمانے میں اس رات کی فضیلت کے پیشِ نظر عبادت کا اہتمام کیا گیا۔


شبِ برأت کی حقیقت اور نقطۂ اعتدال

زمانۂ رواں میں شبِ برأت سے متعلق لوگ افراط و تفریط کا شکار ہوتے جا رہے ہیں چنانچہ بعض لوگ شب برأت کی فضیلت و عظمت اور اس کے مقام و مرتبہ کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ اس کو لیلۃ القدر کا درجہ دے دیتے ہیں اور اسکی فضیلت کے حصول میں بے شمار بدعات و رسومات کے مرتکب ہوتے ہیں جبکہ شب برأت کا معاملہ اس طرح نہیں ہے اور بعض لوگ شب برأت کی فضیلت کا بالکلیہ انکار کرتے ہیں، اسے بے اصل اور جو احادیث اس بارے میں مروی انہیں خود ساختہ اور من گھڑت قرار دیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس سلسلے میں نقطۂ اعتدال یہ ہیکہ شب برأت کی فضیلت ثابت ہے لیکن اس کا درجہ فرض و واجب کا نہیں ہے بلکہ استحباب کا ہے، سرے سے اس کی فضیلت کا انکار کرنا بھی صحیح نہیں ہے اور اس میں کئے جانے والے اعمال و عبادات کو فرائض و واجبات کا درجہ دینا اور بدعات رسومات کا ارتکاب کرنا درست نہیں ہے۔(شبِ برأت فضائل ومسائل ص/5)

شبِ برأت کی حقیقت سے متعلق شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب رقمطراز ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: شب برأت کی حقیقت یہی ہے کہ اس کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے احادیث مروی ہیں جس میں آپ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ہے لہذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد کہنا اور بے اصل کہنا غلط ہے۔
امت مسلمہ کے جو خیر القرون ہیں یعنی صحابہ، تابعین، تبع تابعین کے دور میں اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا چنانچہ اس کو بدعت کہنا بے اصل کہنا درست نہیں ہے صحیح بات یہی ہے کہ اس رات کو جاگنا عبادت کرنا باعث اجر و ثواب ہے (اصلاحی خطبات 285/4)


شبِ برأت سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ

شبِ برأت کی عظمت و فضیلت احادیث کی روشنی میں ایک امرِ مسلّم ہے یہی وجہ ہیکہ ہر زمانہ میں اس رات کی عظمت کو برقرار رکھا گیا ہے لیکن بد قسمتی سے دورِ حاضر میں اس رات سے متعلق چند غلط فہمیاں اور رسومات کو رائج کردیا گیا ہے جسکے نتیجے میں عوام الناس نے اس فضیلت والی رات کو ضائع کرنا شروع کردیا ہے اس لئے آنے والی سطور میں ان غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جارہا ہے۔

  ١)پہلی غلط فہمی: شبِ برأت کو عید تصور کرنا
عصرِ حاضر اس رات کو عید اور جشن کے طور پر منایا جارہا ہے حالانکہ یہ ایک طئے شدہ حقیقت ہے ہمارے مذہب میں صرف دو عیدوں عید الفطر اور عیدالاضحی کے علاوہ کوئی عید ثابت نہیں ہے
 چنانچہ جاننا چاہئے کہ یہ رات کوئی جشن یا عید اور تہوار کی نہیں ہے اور نہ ہی دعوتوں اور جلسوں کی ہے بلکہ یہ تنہائی میں اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت کرنے اسے راضی کرنے اور اس سے مانگنے کی رات ہے۔لہذا شب برات کو عید کی رات سمجھ کر دعوتیں کرنا یا عمدہ قسم کا لباس پہن کر عید منانا یہ سب اس رات سے متعلق امور میں سے نہیں ہے بلکہ اپنی طرف سے ایجاد کردہ رسومات ہیں اس سے بچنے کی سخت ضرورت ہے۔

 ٢)دوسری غلط فہمی: اس رات میں قبرستان جانے کو لازم سمجھنا
یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ قبرستان جانا اس رات کے مستقل اعمال میں سے ہوتا یا سنت و مستحب ہوتا تو یہ عمل صحابہ سے بھی ثابت ہوتا حالانکہ احادیث میں ایسا کچھ نہیں ہے لہذا پندرہ شعبان کو قبرستان جانا سنت سمجھنا یا ضروری قرار دینا اس کی دین میں کوئی حقیقت نہیں ہے اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔
(ماہِ شعبان وشب برأت ص/14)

٣)تیسری غلط فہمی:شبِ برأت میں حلوہ چاول وغیرہ تقسیم کرنا
شب برات کے دن یا رات میں خصوصیت کے ساتھ حلوہ چاول کھانا وغیرہ پکانے یا تقسیم کرنے کا اہتمام کرنے کو عبادت سمجھا جاتا ہے حالانکہ قران و حدیث سے اس کا ثبوت نہیں ملتا بلکہ یہ سب باتیں اپنی طرف سے گھڑی ہوئی بدعت ہیں اس لئے اس احتراز کرنا ناگزیر ہے ( حوالہ سابق)


 ٤)چوتھی غلط فہمی: شبِ برأت کی فضیلت کا سرے سے انکار کرنا
آج کل سوشل میڈیا پر شب برات سے متعلق غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ اس رات کی فضیلت بے بنیاد اور بے اصل ہے اور اس سلسلے میں ضعیف احادیث کو پیش کیا جا رہا ہے تو جاننا چاہیے کہ حضرات محدثین کا یہ فیصلہ ہے کہ جب ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اسکی تائید بہت سی احادیث سے ہو جائے تو اسکی کمزوری دور ہوجاتی ہے لہذا جمہور امت کا یہ فیصلہ ہے کہ اس رات کی فضیلت کم از کم دس صحابہ سے مروی ہے اس لئے اس کی فضیلت ثابت ہے اسکا انکار کرنا یا بے بنیاد کہنا بالکل غلط ہے۔( ملخص از اصلاحی خطبات 258/4)


التجاء وخلاصۂ کلام
مذکورہ بالا سطور سے یہ بات صراحت کے ساتھ واضح ہوجاتی ہیکہ شبِ برأت کے اندر بہت سے فضائل و برکات پنہاں ہیں لہذاضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شبِ برأت سے متعلق سوشل میڈیا جیسے یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ پر پھیلائی جانے والی ویڈیوز سے متاثر ہوکر اس عظیم ترین رات کی رحمتوں سے اپنے آپکو محروم نہ ہونے دیں بلکہ اس رات کی برکتوں رحمتوں اور مغفرت کی ساعتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حسبِ استطاعت انفرادی طور پر نوافل وعبادات اور خدائے رحمت کے دربار میں آہ و زاری کے ساتھ اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کا ضرور اہتمام کریں اور دین کا صحیح علم وفہم حاصل کرنے کی فکر کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہیکہ ہم سب کو توفیق عمل نصیب فرمائے آمین۔