ہم اکثر زندگی میں کشادگی کی دعائیں کرتے ہیں،
دل کا سکون، رزق کی فراوانی، مواقع کی آسانی اور راستوں کی وسعت مانگتے ہیں…
مگر کم ہی یہ سوچتے ہیں کہ وسعت کا دروازہ کہاں سے کھلتا ہے؟
قرآنِ کریم ہمیں ایک ایسا مختصر مگر انقلابی جملہ عطا کرتا ہے
جو انسان کی سوچ، رویّے اور پوری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے:
فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ
پس تم وسعت پیدا کرو، اللہ تمہارے لیے وسعت پیدا فرما دے گا۔
(سورۃ المجادلہ: 11)
یہ آیت بظاہر مجلس میں ایک دوسرے کے لیے جگہ بنانے کی تعلیم دیتی ہے، مگر جو شخص اس کے مفہوم کی گہرائی کو پا لیتا ہے، اس کے لیے یہ آیت صرف نشست تک محدود نہیں رہتی بلکہ پوری زندگی کا اصول بن جاتی ہے۔
ایسا انسان ہر میدان میں اپنے بھائی کے لیے جگہ بنانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
وہ مقابلہ آرائی کے بجائے تعاون کو ترجیح دیتا ہے،
وہ آگے بڑھنے کے لیے کسی کو دھکیلتا نہیں بلکہ ہاتھ تھام کر ساتھ لے چلتا ہے۔
آج کے دور میں پیچھے ہٹنا کمزوری سمجھا جاتا ہے،
ہر کوئی آگے نکلنے کی دوڑ میں ہے، چاہے اس کے لیے دوسروں کو کچلنا ہی کیوں نہ پڑے۔
لیکن ذرا غور کیجیے!
جو رب ایک چھوٹی سی مجلس میں کسی کے لیے جگہ بنانے پر وسعت کا وعدہ کر رہا ہے،
وہ رب کسی کے لیے دروازے کھولنے،
کسی کو روزگار کا ذریعہ بننے،
کسی کو موقع دینے،
اپنی کرسی، اپنی پہچان، اپنا پلیٹ فارم بانٹنے،
کسی کی صلاحیت کو مان لینے،
کسی مجبور اور مفلس کو سہارا دینے پر
کتنی بڑی کشادگی عطا فرمائے گا!
تنگ دل اور گھٹے ہوئے سینے والے لوگ زندگی میں بھی تنگی ہی پاتے ہیں،
جبکہ کشادہ دل اور کھلے سینے والے اللہ کی بے حساب وسعتوں سے نوازے جاتے ہیں۔
ایسے ہی لوگ ربِ کریم کو محبوب ہوتے ہیں،
جو اس کے بندوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔
اللہ ہمیں بھی اُن لوگوں میں شامل فرمائے
جو ہر موڑ پر دوسروں کے لیے جگہ بناتے ہیں،
ترجیح دیتے ہیں،
اور بانٹنے والے دل رکھتے ہیں۔
آمین