اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو قوت بنانے کا حکم دیا ہے (وأعدولھم ماستطعتم من قوت) آپ صل اللہ وسلم نےاس کی تفسیر حدیث مبارکہ سے فرمائی
سنو قوت تیر اندازی میں ہے ،٫یعنی تیر اندازی کے فضائل قیامت تک ہیں جنگ ہو یا نہ ہو
آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام خود تیر اندازی کرتے ایک بار اتنے تیر چلائے کہ کمان ٹوٹ گئی٫ جس کو حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رکھ لی ،٫تیر اندازی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سنت ہے ٫تیراندازی کی مجلس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ٫تیر اندازی سے غم ختم ہوتے ہیں ،"یعنی تفکرات ٹینشن سے آزادی کا ذریعہ ہے ٫بخاری شریف کے مصنف ایک ماہر تیر انداز تھے ٫ان کے بارے میں آتا ہے کہ صرف ایک یا دو بار ان کا نشانہ چھوٹا٫ اور اتنا تیز تیر چھوڑتے کے آپ کے ہمعصر کوئ ایسا ثانی نہ تھا ٫ایک مرتبہ ایک پل کے ستون پر تیر مارا تو وہ پل گر پڑا بعد میں خیال آیا پل کے مالک سے معافی مانگی ٫افسوس کے آج نبی کی امت اس عظیم الشان ورثہ کو بھول گئی ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سنت کو زندگی کر نے کی توفیق عطا فرمائے آمین