ایک خواب جو حقیقت نہ بن سکا
مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
میری بہت خواہش تھی کہ میں اسکو دلہن بنا کر لاتا جس طرح وہ میرے دل کی مالکن تھی اسی طرح اس گھر کی مالکن ہوتی۔
صبح کی ابتدا اسکا چاند سا مکھڑا دیکھ کر کرتا اور رات کو بھی اسکا معصوم چہرہ آنکھوں میں سمائے اسکی خوشبو اپنی سانسوں میں جذب کرتا نیند کی وادی میں چلا جاتا۔
بہت شدید خواہش تھی اسکی تلاوت سننے کی نماز پڑھتے دیکھنے کی اور تہجد ادا کرنے کی بہت خواہش تھی وہ میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتی اسکے کام خود اپنے ہاتھوں سے کرنے کی اس کے ہاتھ کے بنے کھانا کھانے کی ہر شام کی چائے اسکے ساتھ ایک کپ پینے کی بارش میں ساتھ بھیگنے کی وہ میرا انتظار کرتی اور جب تھوڑا سا لیٹ آتا تو اس بات پہ اسکا روٹھ جانا اور پھر اسکو محبت سے منا لینے کی
اسکے ہر دکھ درد کی شریک بننے کی اس پہ حق جتانے کی………
بولا ناں میری شدید خواہش تھی اور ہم جیسوں کی خواہشیں کہاں پوری ہوتی ہے……