حقوق والدین کے عنوان پر آج جمعہ سے قبل ایک جامع اور پُر اثرخطاب۔


✍🏻خامہ کش: محمد عادل ارریاوی

-----------------------------------------------------


آج جمعہ سے قبل جامع مسجد سیسونا جوکی ہاٹ ارریہ میں ایک نہایت ہی اہم اور روحانی خطاب دیا گیا جس میں ناچیز نے والدین کے حقوق پر روشنی ڈالی یہ خطاب نہ صرف دینی لحاظ سے اہم تھا بلکہ انسانی اخلاقی ذمہ داریوں کا ایک بہترین عکاس بھی تھا۔

الحمدللہ ہم اس رب کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں والدین جیسے عظیم نعمتوں سے نوازا بےشمار درود و سلام ہو اس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جنہوں نے ہمیں والدین کے مقام و مرتبے کو نہ صرف بتایا بلکہ اپنے عمل سے سمجھایا۔

ناچیز نے اپنے خطاب میں والدین کے حقوق کو چند اہم مرحلہ میں تقسیم کیا پہلے مرحلہ میں والدین کی دعاؤں کی اہمیت پر بات کی گئی کیونکہ والدین کی دعائیں انسان کی زندگی کے لیے برکت کا باعث بنتی ہیں۔ پھر والدین کی خدمت اور ان کے لیے قربانی دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی یہ بتایا گیا کہ والدین کی عمر بھر کی محنت اور قربانیوں کے بعد ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم ان کی ضروریات کا خیال رکھیں اور ان کی زندگی کے باقی حصے کو آرام دہ بنائیں۔

ایک اور اہم بات جس پر خطاب میں زور دیا گیا وہ والدین کے ساتھ محبت و احترام اور صبر کے ساتھ پیش آنا تھا چاہے والدین کی عمر بڑھنے کے ساتھ ان کی صحت میں کمی آ جائے ہم پر لازم ہے کہ ہم انہیں عزت دیں اور ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں۔

اے لوگو دنیا کی کامیابی چاہتے ہو؟ دولت عزت راحت؟

تو جس ماں نے تمہیں سینے سے لگایا جس باپ نے خود جل کر تمہیں روشن کیا ان کی دعا اور رضا لے لو کیونکہ جس کے والدین راضی اس کا رب راضی۔

خطاب کا اختتام اس دعا پر کیا گیا کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے والدین کے حقوق کو ادا کرنے کی توفیق دے اور ان کی دعاؤں سے ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی وکامرانی نصیب ہو آمین ثم آمین یارب العالمین ۔

یہ شعر کے ساتھ اختتام پزیر ہوا ۔

ماں کی دعا کبھی خالی نہیں جاتی

ان کی بد دعا کبھی ٹالی نہیں جاتی

برتن مانجھ کر تین چار بچوں کو پال لیتی ہے ایک ماں

پر تین چار بچوں سے ایک ماں پالی نہیں جاتی ۔


والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔