جمہوریت محض ایک طرزِ حکومت نہیں، بلکہ ایک فکری روایت، ایک اخلاقی میثاق اور ایک تہذیبی شعور کا مظہر ہے، جس کی اساس عوامی آگہی اور شہری شرکت پر قائم ہے۔ اس روایت کے قلب میں حقِ رائے دہی کو وہ امتیازی مقام حاصل ہے جو شہری کو محض محکوم یا رعیت نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے ریاستی نظم میں ایک بااختیار اور باوقار شریک کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ ووٹ ایک خاموش مگر بلیغ اظہار ہےایسا اظہار جو فرد کی ہستی، اجتماعی وابستگی اور قومی نظم کے ساتھ اس کے تعلق کو علامتی صورت میں منکشف کرتا ہے۔
۲۵/ جنوری کو منایا جانے والا قومی یومِ رائے دہندگان اور اس کے فوراً بعد آنے والا یومِ جمہوریہ اسی فکری و آئینی تسلسل کے دو درخشاں استعارے ہیں۔ ایک دن شہری کی شرکت اور اس کی آواز کی توقیر کا اعلان ہے، تو دوسرا اس آئینی میثاق کی تجدید جس کے تحت یہ شرکت معتبر، مؤثر اور بامعنی ٹھہرتی ہے۔ ۲۶/ جنوری کو نا فذ العمل ہونے والا ہندوستانی دستور اسی وقت اپنی کامل معنویت کو پہنچتا ہے جب رائے دہندہ اس میں ودیعت اختیار کو شعور، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ بروئے کار لاتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ حقیقت اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے کہ جمہوریت کی بنیاد عوام کی شرکت پر استوار ہے، اور عوامی شرکت کا سب سے مضبوط، منظم اور آئینی وسیلہ حقِ رائے دہی ہے۔ ووٹ محض ایک انتخابی پرچی نہیں، بلکہ شہری وجود کا اعلان، اجتماعی شراکت کا اعتراف اور ریاستی نظم میں فرد کی عملی شرکت کا مظہر ہے۔ اسی بنیادی شعور کی آبیاری کے لیے بھارت میں ہر سال پچیس جنوری کو قومی یومِ رائے دہندگان منایا جاتا ہے، جو فردِ واحد کی آواز کی قوت، ووٹ کی حرمت اور شہری ذمہ داری کے احساس کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، اور اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ایک مضبوط اور باوقار جمہوریت کی اصل طاقت عوام کے باخبر، باشعور اور آزاد فیصلوں میں مضمر ہے۔
یہ دن ہمیں اس امر کا شعور عطا کرتا ہے کہ اقتدار کی حقیقی قوت نہ ایوانوں کی ہیبت میں ہے، نہ فائلوں کی گردش میں، نہ فرمانوں اور مہروں کے ظاہری جلال میںبلکہ وہ اس شہری کے وجود میں پنہاں ہے جو رائے دہی کے دن صف باندھے ہوئے اپنی باری کا انتظار کرتا ہے اور خاموشی کے ساتھ اپنی رائے کو قومی تقدیر سے وابستہ کر دیتا ہے۔ یہی شہری جمہوریت کا محور بھی ہے اور اس کی معنویت بھی، اور اسی کی شرکت سے ریاستی نظم کو اخلاقی جواز اور آئینی استحکام حاصل ہوتا ہے۔
آزاد ہندوستان کی فکری بنیادوں میں یہ تصور نہایت واضح تھا کہ سیاسی آزادی اسی وقت بامعنی ہو سکتی ہے جب ملک کا ہر بالغ شہری بلا امتیاز اپنی رائے کے اظہار کا حق رکھتا ہو۔ اسی سوچ کے تحت آزادی کے فوراً بعد آئین ساز اسمبلی نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو اس وقت کے عالمی سیاسی تناظر میں غیر معمولی، جرات مندانہ اور انقلابی تھا۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس دور تک بالغ رائے دہی کا اصول رائج نہیں تھا؛ کہیں تعلیم، کہیں جائیداد، کہیں ٹیکس اور کہیں جنس کی بنیاد پر ووٹ کے حق کو محدود کیا جاتا تھا۔ مگر ہندوستان نے یہ اعلان کیا کہ:
> ہر وہ شہری جو ۲۱سال (بعد میں ۱۸ سال) کی عمر کو پہنچ چکا ہو، اسے بلا کسی مذہب، ذات، زبان، جنس، تعلیم یا دولت کے امتیاز کے ووٹ کا حق حاصل ہوگا۔یہ فیصلہ محض ایک آئینی شق نہیں بلکہ اس بات کا اعلان تھا کہ ہندوستانی جمہوریت اشرافیہ یا مخصوص طبقات پر نہیں بلکہ عوامی اعتماد پر قائم ہوگی۔
آئینی سطح پر بھی اس حق کو مضبوط قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ اگرچہ حق رائے دہی کو بنیادی حق کے طور پر درج نہیں کیا گیا، تاہم دفعہ ۳۲۶کے ذریعے بالغ رائے دہی کو آئینی حیثیت دی گئی، دفعہ ۳۲۴کے تحت ایک آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن قائم کیا گیا، اور عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ءا ور ۱۹۵۱ءکے ذریعے فہرست رائہ دہندگان میں اندراج و اخراج کا طریقہ کار اور انتخابی عمل کو واضح قانونی تحفظ دیا گیا۔ ان قوانین کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ ہر اہل شہری ووٹر لسٹ میں شامل ہو، فہرستیں جامع اور شمولیتی ہوں، اور ریاست شہری کو شامل کرنے کی ذمہ داری خود اٹھائے۔اسی فکری تسلسل میں قومی یوم رائے دہندگان ایک ایسے قومی دن کے طور پر سامنے آتا ہے جو قوم کے مستقبل کی تشکیل میں فردِ واحد کی آواز کی قوت کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت محض حکومت سازی کا طریقہ نہیں بلکہ شہری احتساب، شفاف حکمرانی اور باشعور انتخاب کا مسلسل عمل ہے۔
قومی یوم رائے دہندگان کا پس منظر الیکشن کمیشن آف انڈیا کے قیام سے جڑا ہوا ہے، جی ہاں۲۵/ جنوری ۱۹۵۰ء وہ تاریخ ہے جس وقت سے الیکشن کمیشن کو ملک میں شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کے نگران کے طور پر قائم وتسلیم کیا گیا۔ تاہم اس دن کی حقیقی اہمیت محض ایک ادارے کی سالگرہ تک محدود نہیں۔ سنہ ۲۰۱۱میں پہلی بار قومی یوم رائے دہندگا ن منانے کا مقصد نوجوانوں کو انتخابی عمل سے جوڑنا، سیاسی بے حسی کا خاتمہ کرنا اور جمہوری شرکت کو فروغ دینا تھا۔ اس سے قبل ووٹنگ کی عمر کو اکیس سے کم کر کے اٹھارہ سال کرنا بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوان آوازیں جمہوریت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
ہندوستان جیسی وسیع، کثیر الثقافتی اور متنوع جمہوریت میں ووٹ کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، کیونکہ قومی پالیسیاں، ترقیاتی تر جیحا ت اور سماجی سمت عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے طے پاتی ہیں۔ اگر شہری اس عمل میں شریک نہ ہوں یا ان کی شرکت محدود ہو جائے تو فیصلہ سازی چند مخصوص حلقوں تک محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ قومی یوم رائے دہندگان اسی خطرے کے تدارک کی ایک شعوری کوشش ہے، جو خاص طور پر نئے اور نوجوان ووٹروں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ان کا ایک ووٹ بھی قومی مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ابتدائی انتخابات میں ریاست کا رویہ واضح طور پر شمولیتی تھا۔ ناخواندہ ووٹروں کے لیے انتخابی نشانات متعارف کرائے گئے، دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک پولنگ بوتھ پہنچائے گئے، اور اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ دستاویزات کی کمی شہری کی عملی مجبوری ہو سکتی ہے، مگر اس کی شہریت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ووٹ تک رسائی کو ریاست کی ذمہ داری سمجھا گیا، نہ کہ شہری پر بوجھ۔
ہندوستان کے انتخابی نظام میں رفتہ رفتہ متعارف کرائی جانے والی اصلاحات ایک طویل تاریخی تسلسل کی حامل ہیں، جن کا آغاز طویل عرصے تک پیپر بیلٹ کے ذریعے ووٹنگ کے نظام سے ہوا۔ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعہ منعقد ہوتے رہے، جس کا مقصد ووٹ کے عمل کو زیادہ سے زیادہ قابلِ فہم، قابلِ قبول اور عوامی اعتماد کے مطابق رکھنا تھا۔ اس دور میں انتخابی نشانات، بیلٹ بکس، اور ووٹ کی رازداری جیسے اصولوں کو مضبوط بنیادوں پر قائم کیا گیا۔ وقت کے ساتھ انتخابی شفافیت، رفتار اور انتظامی سہولت کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ آگے بڑھا، جس کے نتیجے میں ووٹر فہرستوں کی باقاعدہ نظرثانی، انتخابی اخراجات کی حد، ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ، اور بالآخرالیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا تدریجی نفاذ عمل میں آیا۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد انتخابی بدعنوانیوں کو کم کرنا، عمل کو مؤثر بنانا اور نتائج پر عوامی اعتماد کو مستحکم کرنا تھا، تاہم ہر مرحلے پر یہ سوال مرکزی حیثیت رکھتا رہا کہ نئی انتظامی سہولتیں جمہوریت کے بنیادی اصول یعنی شمولیت اور ووٹ تک آسان رسائی سے کس حد تک ہم آہنگ رہتی ہیں۔
حال ہی میں الیکشن کمیشن ہند کی جانب سے متعارف کیے گئے عمل ایس آئی آرکے تحت ووٹر فہرستوں کی ازسرنو جانچ نے ملک کے تمام شہریوں کو اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔ بہار میں شروع ہونے والے اس عمل کے بعد نو ریاستوں اور تین مرکزی علاقوں کے تجربات اور مشاہدات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس عمل نے رائے دہندگان میں شرکت کے جذبے کے بجائے اخراج کے خدشے کو زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ سماعتوں کے نام پر طویل قطاریں، دستاویزات کی تلاش میں سرگرداں شہری، اور منطقی تضاد کے عنوان سے کروڑوں رائے دہندگان کو نوٹسوں کی اجرائی یہ سب اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس عمل کو مزید قابلِ رسائی، سہل،عوام دوست اور زمینی حقیقتوں سے ہم آہنگ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
بظاہر ووٹر فہرستوں کی درستگی اور شفافیت اس عمل کا مقصد ہے، مگر عملی سطح پر یہ غریب شہریوں، مزدور طبقے، دیہی آبادی، مہاجرین، خانہ بدوش افراد، بزرگوں، خواتین اور اقلیتی گروہوں کے لیے مشکلات کا سبب بنتا دکھائی دیتا ہے۔ مستقل پتے کی عدم موجودگی، دستاویزات کی عدم موجودگی یا ان تک ناقابل رسائی والی کیفیت ،موجود دستاویزات کا ناکافی ہونا،خامیوں سے پر ہونا،اصلاح کے طریقہ سے ناواقفیت، بکھرے ہوئے کاغذات اور نقل مکانی پر مبنی زندگی میں جب ووٹ کا حق فائلوں اور فارموں سے مشروط ہو جائے تو جمہوریت عوام کے دروازے سے ہٹ کر دفاتر کی میزوں تک محدود ہوتی محسوس ہوتی ہے۔یہ صورت حال عوام کے لیے گہری بے چینی کا سبب بن رہی ہے، اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا حق رائے دہی واقعی ہر شہری کے وجود کا لازمی حصہ ہے، یا صرف اس کے پاس موجود دستاویزات اور کاغذات کے بوجھ سے مشروط ہو گیا ہے؟کیا جمہوریت کے دروازے عوام کی آواز اور ووٹ سے کھلتے ہیں، یا کسی افسر کی مہر کی مرضی سے؟یہ سوال محض فکری نہیں، بلکہ ہر عام شہری کے روزمرہ تجربے سے جڑا ایک حقیقی اضطراب ہے، جو جمہوریت کے اصل وعدے اور اس کی نئی تعبیر کو سمجھنے میں عوام کومصروف کردیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت کے تصور پر ازسرنو غور کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ابراہم لنکن نے جمہوریت کو عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، اور عوام کے لیےقرار دیا تھا، مگر بدلتے ہوئے حالات میں اس تعبیر میں ایک خاموش تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب عوام حکومت کے نمائندے منتخب کرنے کے بجائے، حکومتیں اپنے رائے دہندگان چننے کے عمل میں مصروف ہیںاور یہی تبدیلی جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے فکر کو جنم دیتی ہے۔
جمہوریت کی اصل قوت شمولیت میں مضمر ہے، اخراج میں نہیں۔ اصلاحات بلاشبہ ناگزیر ہیں، مگر وہی اصلاحات دیرپا اور بامعنی ہوتی ہیں جو انسانی وقار، سماجی حقیقتوں اور آئینی وعدوں سے ہم آہنگ ہوں۔ ایک صحت مند جمہوریت میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ہر شہری کے لیے حقِ رائے دہی تک رسائی کو آسان بنایا جائے، نہ کہ اسے شبہات، نوٹسوں اور دستاویزی پیچیدگیوں کی بھول بھلیوں میں الجھا دیا جائے۔
ووٹ محض ایک پرچی نہیں، بلکہ شہری کے وجود، اس کی ذمہ داری اور قومی مستقبل کے ساتھ اس کے رشتے کی علامت ہے۔ آج ہمارا جمہوری نظام اسی وعدے کی کسوٹی پر پرکھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سوال اب محض فکری یا نظری نہیں رہا، بلکہ ہر شہری کے ضمیر کی صدا بن چکا ہے۔اگر انتخابی فہرستوں سے ناموں کے اخراج کے خوف میں مبتلا رائے دہندگان کی بازگشت کو سننے اور سمجھنے والا کوئی نہ رہا، تو پھر یہ سوال پورے ملک کے سامنے رکھنا پڑے گااے ملک، اب تو ہی بتاتیرا رائے دہندہ آخر جائے تو جائے کہاں؟۔