ازرائیلی کتے، ملعون الدھر، خنزیر النسل، دجال پروردہ، ابغض المخلوقات، شیاطین الانس، انسانیت کے دشمن، قرآنی پھٹکار کے مارے ہوۓ، دائمی ذلت ورسوائی کے عین مصداق، کرۂ ارض پر سب سے بدترین قسم کے ظالموں نے فقط ایک مددگار بیڑا، مظلوموں کی آواز، انسانیت پسند گروہ اور عدل وانصاف کی ایک نئ کرن "گلوبل صمود فلوٹیلا" پر حملہ کر کے اپنے ناپاک عزائم کے واضح ثبوت تاریخ میں رقم کر دئیے ہیں، اس نیتن یاہو نامی شیطان کی شیطنت کے لیے یہی کیا کم تھا کہ اس نے کتنے ہی معصوم بچوں کو پھولنے پھلنے سے پہلے ہی ابدی نیند سلا دیا، کتنے دودھ پیتے بچے اپنی ماؤں کی گودوں سے الگ ہو گئے، کتنی ہی عورتیں بیوہ ہو گئ، مگر حقیقت یہ کہ یہ نیتن یاہو، ملعونِ زمانہ ہے، یہ کمینہ باؤلا ہو چکا ہے، یہ دجال اب کچھ بھی کرنے پر تلا ہوا ہے، یہ حرامی النسل ظالمیت وسفاکیت کی ساری حدیں پار کۓ جا رہا ہے، یہ خبیث النسل جنگی اصول سے نا آشنا ہے، یہ ولد الحرام قاتلینِ انبیاء جیسے آباؤ واجداد کا وارث ہے، یہ معصوموں کا قاتل ہٹلر کی پیشین گوئی ہے، یہ ظالم حیوانیت ودردنگی سے بھی آگے نکل چکا ہے، یہ جابر وسرکش فرعون کا اپڈیٹ ورژن ہے، یہ نکما خود اسرائیلیوں کا دھتکارا ہوا کتا ہے، یہ ذلیل موجودہ دور کا نالائقِ اعظم ہے، یہ مردودِ زمانہ بیکارِ زمانہ ہے، یہ حرام خور پلید الفکر ہے، یہ نطفۂ ناپاک زمین پر بوجھ ہے، یہ منحوس خبیث الفطرت ہے، بقول مفتی فہیم الدین بجنوری اس مردود کو خود اپنے ہی دجال ہونے کا شک نہیں بل کہ یقین ہے، مگر ہمیں بھی یقینِ کامل ہے کہ یہ تاریکی عارضی ہے اور آزادی کی صبح بہت جلد آیا چاہتی ہے,
ان شاء اللہ تعالیٰ
اسرائیل اس قافلۂ استقامت کی کئ کشتیاں اپنے قبضہ میں لے چکا ہے، ان عظیم لوگوں کو گرفتار کرنا بھی شروع کر دیا ہے، خبر یہ ہے دجالی افواج مابقیہ کشتیوں پر بھی تمام حربے استعمال کرنے سے گریز نہیں رہی ہے اور کشتیاں بین الاقوامی پانی کے دوران خطرناک زوم میں ہیں، یہ زہریلے کتے عقل سے نابلد ہیں، یہ خصیانی بلی نہیں بلوٹے ہیں، انہوں نے ساری حدیں پار کرتے ہوۓ قافلۂ استقامت کے بہت سے شرکاء کے موبائل فون جام اور ہیک کر لئے ہیں۔
مگر الحمد للہ قافلۂ استقامت کا ردِ عمل دیکھنے کے قابل ہے، انہیں سن کر اپنی نااہلی پر رونا آتا ہے، مگر ان پر رشک آتا ہے، وہ ہر قسم کی مصائب وپریشانی سہنے کے باوجود ابھی تک غزہ جانے پر مصر ہیں، ان میں سے گرفتار شدہ لوگ بھی دشمن کے سامنے اپنے اسی دو ٹوک موقف کو بےباک انداز میں بیان کر رہے ہیں۔
یہ خوش بخت اور خوش نصیب لوگ حالِ دل سے یقیناً وحشت رضا علی کے اس شعر کو کہ رہے ہوں گے۔
کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موجِ دریا کا حریف
ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
آپ اس قافلے کے لۓ جو بھی کر سکتے ہیں، ضرور کریں، دعائیں کریں، کچھ صدقہ نکال دیں،
اللہ تعالیٰ ان حضرات کی فرشتوں کے ذریعہ حفاظت فرمائے اور اپنی خاص مدد ونصرت کا نزول فرمائے, آمین یارب العالمین۔
عبد اللہ یوسف
٩/ربیع الثانی ١٤٥٧ھ۔
2/اکتوبر 2025شمشی
بہ روز جمعرات