دوستی: پھولوں جیسی خوشبو اور زندگی کا سہارا
(بچوں کے لیے )
تحریر: (محمد سلیمان قریشی)
زندگی کا سفر تنہا طے کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو رشتوں کی صورت میں جو خوبصورت تحائف عطا کیے ہیں، ان میں "دوستی" سب سے انوکھا رشتہ ہے۔ باقی تمام رشتے ہمیں پیدائشی طور پر ملتے ہیں، مگر دوستی وہ واحد رشتہ ہے جسے ہم خود اپنی پسند اور مرضی سے منتخب کرتے ہیں۔
دوستی کی اہمیت: ہر موڑ کا ساتھی
بچپن کی شرارتیں ہوں، اسکول کا کام ہو یا زندگی کی کوئی بڑی پریشانی—ایک سچا دوست ہر جگہ ڈھال بن کر ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ سچی دوستی وہ آئینہ ہے جو ہمیں ہماری خوبیاں اور خامیاں بالکل صاف دکھاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے:
"تمہارا بہترین دوست وہ ہے جو تمہارے سامنے تمہارے عیب بتائے اور تمہاری غیر موجودگی میں تمہاری برائیوں کو چھپائے۔"
اسلامی تعلیمات اور سچی دوستی
اسلام میں دوستی محض وقت گزاری کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے ایک اچھے اور برے دوست کی مثال "عطر بیچنے والے اور لوہار کی بھٹی" سے دی ہے۔ عطر بیچنے والے کے پاس بیٹھیں گے تو خوشبو آئے گی، اور لوہار کے پاس بیٹھیں گے تو تپش یا دھوئیں کا ڈر رہے گا۔ اس لیے اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ دوست کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں کیونکہ "انسان اپنے دوست کے طریقے (دین) پر ہوتا ہے"۔
دوست بنانے کے طریقے اور معیار
آج کے دور میں دوست بنانا بہت آسان ہے لیکن "سچا دوست" تلاش کرنا مشکل۔ اچھا دوست بنانے کے لیے ہمیں خود بھی اچھا بننا پڑتا ہے۔
پہل کرنا: ہمیشہ مسکرا کر بات کریں اور سلام میں پہل کریں۔
اعتبار: دوست بنانے کے لیے سچائی اور دیانت داری پہلی شرط ہے۔
ہمدردی: کسی کی ضرورت میں کام آنا ہی دوستی کی بنیاد ہے۔
ایک بزرگ کا قول ہے کہ: "دوست وہ نہیں جو تمہارے کہنے پر تمہاری مدد کرے، بلکہ دوست وہ ہے جو تمہارے بولنے سے پہلے تمہاری ضرورت سمجھ جائے"۔
دوستی کی حدود: توازن ہی خوبصورتی ہے
محبت اور دوستی میں بھی کچھ حدوں کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ رشتہ ہمیشہ قائم رہے۔
رازداری: دوست کے راز کو امانت سمجھ کر سینے میں دفن کر لینا چاہیے۔
تنقید کا طریقہ: اگر دوست غلطی کرے تو اسے سب کے سامنے ذلیل کرنے کے بجائے تنہائی میں پیار سے سمجھائیں۔
احترام: دوست کے گھر والوں اور اس کی پسند ناپسند کا ہمیشہ احترام کریں۔
دوستی کے فوائد: ایک جسم دو جان
سچی دوستی انسان کو اکیلا پن محسوس نہیں ہونے دیتی۔ یہ ہمیں ٹیم ورک سکھاتی ہے اور ہماری خود اعتمادی میں اضافہ کرتی ہے۔ جب ہم کسی مشکل میں ہوتے ہیں تو ایک مخلص دوست کا کندھا ہمیں دنیا کے ہر غم سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
"ایک وفادار دوست ہزار رشتہ داروں سے بہتر ہوتا ہے کیونکہ وہ خون کا نہیں بلکہ روح کا رشتہ ہوتا ہے۔"
عظیم دوستوں کی مثالیں
تاریخ میں سچی دوستی کی سب سے اعلیٰ مثال حضور پاک ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ہے۔ ہجرت کا سفر ہو یا غارِ ثور کی تنہائی، حضرت ابوبکرؓ نے ثابت کیا کہ دوستی قربانی کا نام ہے۔ اسی طرح امام ابو حنیفہؒ اور ان کے شاگردوں کی دوستی علم کی ترویج کا ذریعہ بنی۔
مختصر یہ کہ دوستی ایک ایسا پودا ہے جسے خلوص اور وفا کے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہمیں زندگی میں ایک بھی سچا اور نیک دوست مل جائے، تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہم دنیا کے خوش نصیب ترین انسان ہیں۔