اخلاق وہ خوشبو ہے جو انسان کے کردار سے پھیلتی ہے۔ آج ہم عبادات میں تو آگے ہیں، مگر اخلاق میں پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک دکاندار حارث تھا، جو نماز بھی پڑھتا تھا مگر گاہک سے سخت لہجے میں بات کرتا تھا۔ لوگ اس سے دور رہنے لگے۔

ایک دن اس نے ایک عالم کو کہتے سنا: "نبی ﷺ اخلاق کے کمال کے لیے بھیجے گئے ہیں۔" یہ جملہ اس کے دل پر اثر کر گیا۔ اس نے اپنے لہجے میں نرمی پیدا کی، سچ بولنا شروع کیا اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک اپنایا۔

جلد ہی اس کی دکان پر برکت آنے لگی، لوگ اس کے اخلاق کی تعریف کرنے لگے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مسکراہٹ بھی صدقہ ہے، معاف کرنا طاقت ہے اور اچھا اخلاق سب سے بڑی دولت ہے۔ اگر ہم اپنے اخلاق درست کر لیں تو معاشرہ خود بخود درست ہو جائے گا۔