اکیسویں صدی کا دورجہاں ہر معیار، ہر قدر، ہر اصول، الٹ چکے ہیں۔
عزت دار اور پاکدامن لوگ... خاموش گھروں میں قید ہیں،
گویا دہکتے کوئلے کو مٹھی میں لیے بیٹھے ہوں،
جبکہ بے حیا، بے غیرت، اور بے اصول لوگ معاشرے کے "ہیرو" کہلاتے ہیں۔

50 سال کا شخص جوانی کے خوابوں میں کھویا ہے، اور 20 سال کا نوجوان زندگی سے بیزار ہو کر موت کی دعائیں مانگ رہا ہے۔
 ننھی بچیاں محبوب کی بے وفائی پر انسو بہا رہی ہے، اور مائیں اپنی اولاد کی تربیت بھول چکی ہیں۔

غیرت مند کو دقیانوس،اور بے راہ رو کو "ماڈرن" کہا جاتا ہے۔
ترقی کا مطلب رہ گیا ہے: لباس اتارنا، شراب پینا، اور فیشن کے دوڑ میں سب کچھ گنوادینا۔
جو شخص حرام سے بچے، اسے "پسماندہ" کہا جاتا ہے، اور جو گناہ کرے، وہ "کول" اور "سماجی ذہین" کہلاتا ہے۔
جو مرد اپنی بیوی سے وفادار ہے، اسے جادو زدہ سمجھا جاتا ہے۔
اور جو بے وفائی کرے، وہ چالاکی کی علامت بن چکا ہے۔ 
پیزا اور برگر... ایمبولنس سے پہلے پہنچتے ہیں،
اور جھوٹی تعریف کرنے والا دوست... سب سے سچا مانا جاتا ہے! 
پیسہ... رشتوں سے زیادہ قیمتی ہو چکا ہے،
چاہے وہ حلال ہو یا حرام، انسان کو فرق نہیں پڑتا۔
نوجوان نکاح سے خوف زدہ،لیکن گناہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار!
غیرت، وفاداری، حیا... یہ سب نایاب خزانے بن چکے ہیں۔
یہ وہ دور ہے جہاں:
اخلاق فنا ہوچکے ہیں،
دین بگاڑ کا شکار ہے،
تربیت تباہ ہو چکی ہے،
صحت برباد ہے۔
اور معاشرہ... مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔
یہ اکیسویں صدی ہے...
جہاں ہر چیز الٹ چکی ہے! 
اب سوال یہ ہے: 
 "کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں... یا صرف تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟"