انسان اکثر محسوس کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہے اور کوئی اس کے اعمال پر نظر نہیں رکھ رہا۔بعض اوقات لوگ یہ سوچ کر چھپ کر گناہ کرتے ہیں کہ کوئی ہم کو نہیں دیکھ رہا یا ہمارے چھپے ہوئے افعال کسی کو معلوم نہیں ہوں گے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کبھی بھی حقیقی معنوں میں تنہا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ، ہر وقت ہمارے ساتھ ہیں۔ چاہے ہم کوئی عمل چھپائیں یا رات کے سناٹے میں دل کی بات کریں، اللہ ربّ العالمین ہر چیز سے واقف ہے۔ 
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ۞
ترجمہ: اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں، ان (تک) سے ہم خوب واقف ہیں، اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ 
( سورۃ ق: 16)
اسی لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ گناہ کرنے سے پہلے ایک مرتبہ سوچے: کیا اللہ اس وقت میرے ساتھ نہیں ہے؟ یہ شعور دل میں شرم اور خوف پیدا کرتا ہے اور انسان کو برائی سے روک دیتا ہے۔
تنہائی دراصل انسان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنے رب کے قریب جائے۔ جب ہم خاموش لمحوں میں اللہ کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور اس کی عبادت میں مشغول ہوتے ہیں، تو دل کو سکون ملتا ہے اور روح تازگی محسوس کرتی ہے۔ یہ احساس کہ اللہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے، انسان کو ہر غلطی سے بچنے کی طاقت دیتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی موجودگی کو کبھی نہ بھولیں۔ گناہ کرنے سے پہلے سوچیں، اللہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ شعور انسان کو برائی سے روکنے، نیکی کی طرف راغب کرنے اور زندگی میں سکون و اطمینان پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
لہٰذا یاد رکھیں کہ حقیقی معنوں میں انسان کبھی بھی تنہا نہیں ہوتا۔ اللہ کا ساتھ ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہے، بس ہمیں دل سے اس کی طرف رجوع کرنا ہے، اور اس کی رضا کے مطابق زندگی گزارنی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی اور سکون عطا کرتی ہے۔
🪶از:ح عائش✰