روحوں تک کی آہ نکل جاتی ہے!
مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
ذہنی دباؤ بظاہر نظر نہ آنے والا ایسا بوجھ ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے پورے وجود کو جکڑ لیتا ہے۔ ابتدا میں یہ صرف خیالوں کی تھکن بن کر آتا ہے، مگر پھر یہی تھکن بدن کی رگوں میں اتر کر ہاتھ پاؤں میں بوجھ، سانسوں میں بے ترتیبی اور دل میں انجانا سا خوف بھر دیتی ہے۔ آدمی چلتا پھرتا رہتا ہے مگر اندر کہیں سب کچھ ٹھہر سا جاتا ہے۔
جب سوچیں الجھ جائیں تو الفاظ بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ انسان سب کچھ کہنا چاہتا ہے مگر زبان گونگی ہو جاتی ہے۔ ہنسی چہرے پر ہو تو بھی دل کسی ویران کمرے کی طرح خالی محسوس ہوتا ہے۔ راتیں جاگ کر کٹتی ہیں اور دن بوجھ بن جاتے ہیں۔ ایسے میں معمولی سی بات بھی دل پر چوٹ بن کر لگتی ہے اور آنکھوں میں نمی بنا کر ٹھہر جاتی ہے۔
یہ کیفیت صرف جسم کی نہیں ہوتی، یہ روح کی تھکن ہوتی ہے۔ وہ آہیں جو ہونٹوں تک نہیں آ پاتیں، دل کے کسی کونے میں جمع ہو کر انسان کو اندر ہی اندر توڑ دیتی ہیں۔ آدمی خود کو کمزور نہیں سمجھتا مگر پھر بھی ہر روز تھوڑا تھوڑا بکھرتا چلا جاتا ہے، بغیر کسی آواز کے، بغیر کسی گواہ کے۔
اور پھر ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں لفظ ختم ہو جاتے ہیں، شکوے تھک جاتے ہیں اور آنکھیں بس جھک جاتی ہیں۔ وہ در جہاں انسان کچھ کہے بغیر بھی سنا جاتا ہے۔ سجدے کی خاموشی میں دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے، آنسو خود دعا بن جاتے ہیں، اور ٹوٹے ہوئے اندر کو جیسے سہارا مل جاتا ہے۔
واقعی، یہ ساری تھکاوٹیں اللہ کے در پر آ کر ختم ہو جاتی ہیں۔