دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی
ہم سب اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے وطنِ عزیز ہندوستان میں بے شمار جامعات، کالجز، اسکولز، مکاتب، مدارس اور یونیورسٹیاں قائم ہیں، جہاں طلبہ و طالبات مختلف علوم و فنون سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ کہیں بچے مکمل طور پر عصری علوم میں منہمک نظر آتے ہیں، تو کہیں دوسری جانب کچھ طلبہ صرف دینی تعلیم اور علومِ شریعت کے حصول میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ مگر اگر پورے ہندوستان کے تعلیمی منظرنامے پر سنجیدگی اور بصیرت کے ساتھ نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ایسے ادارے نہایت کم ہیں جہاں دینی، روحانی اور عصری علوم کو ایک ہی پلیٹ فارم پر، متوازن اور ہم آہنگ انداز میں پیش کیا جا رہا ہو۔
اسی کمی کو پورا کرنے والے نادر اور مثالی اداروں میں جنوبی ہندوستان کی سرزمین پر قائم ایک عظیم الشان علمی درسگاہ بھی شامل ہے، جو علم و تحقیق کا روشن مینار بھی ہے اور کردار سازی، فکری بالیدگی اور ہمہ جہت تربیت کا ایک مضبوط مرکز بھی۔ یہ وہ مایہ ناز ادارہ ہے جسے ہم سب دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔ دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری و عملی نظام ہے جو اپنے طلبہ کو کتابی علم تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی پوری شخصیت کی تعمیر کرتا ہے، ان کے حال کو سنوارتا ہے اور ان کے مستقبل کو روشن سمت عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ ادارہ عظیم جامعات کی صف میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام رکھتا ہے۔
دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کی علمی عظمت، فکری گہرائی اور ہمہ جہت تعلیمی خدمات نے نہ صرف اہلِ علم و دانش کو متاثر کیا ہے بلکہ اصحابِ قلم اور اہلِ ذوق شعرا کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ اسی اثر اور تاثر کے تحت معروف شاعرِ ہُدیٰ سیف علی شاہ عدمؔ دارالہدیٰ کی شان و شوکت، اس کے علمی وقار اور اس کے تعلیمی مشن سے متاثر ہو کر اپنے جذبات کو شعری قالب میں ڈھالتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں:
طالبِ علم و ہنر کا آسرہ دارالہدیٰ
کس قدر ہے خوبصورت، خوشنما دارالہدیٰ
بانیانِ جامعہ نے زندگی قربان کی
ہے ہزاروں کاوشوں کا یہ صلہ دارالہدیٰ
یہ اشعار درحقیقت دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کی اس ہمہ گیر جدوجہد کی ترجمانی کرتے ہیں جو علم، کردار، اخلاص اور قربانی سے عبارت ہے، اور جو آج ہزاروں طلبہ کے لیے علم و ہنر کا مضبوط سہارا بن چکی ہے۔
اسی عظیم فکری اور تعلیمی وژن کے تحت دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی (جوکہ ہدایہ نگر، چماڈ ملاپورم، کیرلا میں واقع ہے) نے اپنی علمی خدمات کو محض ایک کیمپس تک محدود نہیں رکھا، بلکہ پورے ہندوستان میں اس کے زیرِ انتظام متعدد آف کیمپسز اور ملحق ادارے کامیابی کے ساتھ قائم ہیں۔ الحمدللہ، اس وقت دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کے تحت سات آف کیمپسز فعال طور پر علمی و تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں: دارالہدیٰ آندھرا پردیش (پنگانور) آف کیمپس، دارالہدیٰ آسام آف کیمپس، دارالہدیٰ بنگال آف کیمپس، دارالہدیٰ ہانگل آف کیمپس، دارالہدیٰ مادَنّور آف کیمپس، دارالہدیٰ کاشی پٹنم آف کیمپس، دارالہدیٰ بھیونڈی، مہاراشٹر آف کیمپس اور قوتُ الاسلام عربک کالج، ڈونگری، ممبئی۔
یہ تمام ادارے مین دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کے علمی، فکری اور انتظامی نظم کے تحت چل رہے ہیں اور ایک ہی مقصد کے لیے سرگرم ہیں یعنی عصری علوم اور دینی علوم کو ایک ہی پلیٹ فارم پر، ایک ہی وقت میں، متوازن اور ہم آہنگ انداز میں طلبہ تک پہنچانا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان تمام آف کیمپسز میں ہزاروں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جہاں سوشیالوجی، سوشل سائنس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، آئی ٹی، پولیٹیکل سائنس، بایولوجی، ریاضی اور دیگر عصری مضامین کے ساتھ ساتھ قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ، عقیدہ، ادب، لٹریچر، تصوف اور دیگر اسلامی علوم کی باقاعدہ تعلیم دی جا رہی ہے۔ اس جامع نصاب کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کا ذہن، فکر اور شعور عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھ سکے، حالاتِ حاضرہ کے چیلنجز کا ادراک کرے، اور اسلام کے خلاف اٹھنے والے فکری و نظریاتی اعتراضات کا علم، حکمت اور دلیل کے ساتھ جواب دے سکے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی اور اس کے زیرِ انتظام ادارے اپنے طلبہ کو نہ صرف دینی و دنیاوی اعتبار سے مضبوط بنا رہے ہیں، بلکہ انہیں آئینِ ہند اور قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنے حقوق، آزادی اور انصاف کے لیے جدوجہد کا شعور بھی عطا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارے مذہبِ اسلام کی اشاعت و ترویج کا فریضہ نہایت احسن انداز میں انجام دے رہے ہیں۔
بدقسمتی سے بعض حلقوں، خصوصاً شمالی ہندوستان کے چند اداروں اور ان سے وابستہ افراد کی جانب سے دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی پر مسلکی تعصب کی بنیاد پر اعتراضات بھی سامنے آتے ہیں، جو نہ علمی معیار کے مطابق ہیں اور نہ ہی دینی وقار کے شایانِ شان۔ حقیقت یہ ہے کہ شمالی ہندوستان میں فقہِ حنفی کی اکثریت ہے، جبکہ جنوبی ہندوستان میں فقہِ شافعی غالب ہے۔ یہ اختلاف فقہی فروعات کا ہے، نہ کہ عقائد کا۔ عقائد میں اہلِ سنت والجماعت کے تمام مکاتب فکر متفق ہیں؛ امام ابو منصور ماتریدیؒ ہوں یا امام ابو الحسن اشعریؒ دونوں برحق، معتبر اور اہلِ سنت کے عظیم ائمہ ہیں، اور ائمہ اربعہ کی اتباع امت میں ہمیشہ سے مسلم رہی ہے۔ اگر جنوبی ہندوستان میں مسلکِ اعلیٰ حضرت کی جڑیں نہ ہوتیں تو حضرت احمد کویا شالیاتیؒ جیسے بزرگوں کے مزارات، ان کی نسبتیں، اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلویؒ کا مشہور سلام“مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام”آج بھی یہاں عقیدت سے نہ پڑھا جاتا۔ اختلاف صرف چند فروعی مسائل کا ہے، جسے بنیاد بنا کر نفرت، تشدد یا اندھی مخالفت کو فروغ دینا نہ دین کا تقاضا ہے اور نہ ہی امت کی مصلحت۔
الحمدللہ، دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرالا میں تقریباً 32 تا 33 ملحق ادارے چلا رہی ہے، جن میں 35 سے 36 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اگر مین کیمپس، ملحق اداروں اور آٹھ آف کیمپسز کو یکجا کیا جائے تو مجموعی طور پر 45 سے 50 ہزار کے قریب طلبہ اس عظیم تعلیمی نیٹ ورک سے استفادہ کر رہے ہیں۔ بلا شبہ دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی عصرِ حاضر کا وہ ممتاز علمی و تعلیمی پلیٹ فارم ہے جہاں طلبہ دین کو بھی سمجھ رہے ہیں اور دنیا کو بھی اور دونوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہی توازن، یہی وسعتِ نظر اور یہی فکری ہم آہنگی آج اسلام کی حقانیت کو نمایاں کر رہی ہے۔ لہٰذا ایسے اداروں کی مخالفت کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی، تعاون اور حمایت کی جانی چاہیے، کیونکہ یہی ادارے آنے والی نسلوں کے ایمان، کردار اور مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں۔
آخر میں ان تمام حضرات کے لیے ایک مخلصانہ پیغام اور سنجیدہ نصیحت ہے جو لاعلمی، جاہلانہ تعصب، اندھی تقلید اور فکری تشدد کی بنیاد پر ایسے اداروں پر اعتراضات کرتے ہیں جو دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لی جانی چاہیے کہ اسلام ہمیں سنی سنائی باتوں پر فیصلے صادر کرنے، نفرت پھیلانے اور مسلکی عصبیت کو ہوا دینے کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ تحقیق، عدل، حسنِ ظن اور حکمت کے ساتھ بات رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ جن اداروں میں قرآن و حدیث، فقہ و عقیدہ کے ساتھ ساتھ عصری علوم پڑھائے جا رہے ہوں، جہاں نوجوانوں کو آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے دین کی حفاظت اور امت کی خدمت کا شعور دیا جا رہا ہو، ایسے اداروں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا درحقیقت امت کے مستقبل کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
یہ حقیقت بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ فقہی اختلاف کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی یہ اختلاف دین میں تفرقے کا سبب ہے، بلکہ ائمہ اربعہ کا اختلاف امت کے لیے وسعت اور آسانی کا ذریعہ رہا ہے۔ حنفی اور شافعی، ماتریدی اور اشعری یہ سب اہلِ سنت والجماعت کے مسلمہ اور متفق علیہ مکاتب فکر ہیں، ان میں سے کسی ایک کی پیروی دوسرے کی نفی نہیں کرتی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ چند لوگ انہی فروعی اختلافات کو بنیاد بنا کر ایسے اداروں کی نیت، مسلک اور خدمات پر سوال اٹھاتے ہیں جو خلوص کے ساتھ اسلام کی علمی و دعوتی خدمت میں مصروف ہیں۔
یہ بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ جنوبی ہندوستان میں آج اگر دینی شعور، عشقِ رسول ﷺ اور مسلکِ اہلِ سنت کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے تو اس کے پیچھے صدیوں کی محنت، اولیاء کرام کی قربانیاں اور اکابرینِ اہلِ سنت کی تعلیمات کارفرما ہیں۔ اگر یہاں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلویؒ کی فکر و محبت نہ ہوتی تو ان کے خلفاء، ان کی نسبتیں، ان کا کلام اور ان کا پیغام آج بھی اس خطے میں اس قدر زندہ اور مؤثر نہ ہوتا۔ لہٰذا محض جغرافیائی یا فقہی اختلاف کی بنیاد پر کسی پورے تعلیمی نظام کو رد کر دینا نہ علمی دیانت ہے اور نہ دینی انصاف۔
آج اسلام کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا مقابلہ نعروں، فتوؤں اور الزام تراشی سے نہیں بلکہ علم، کردار اور حکمت سے کیا جا سکتا ہے، اور یہی کام وہ ادارے کر رہے ہیں جو نئی نسل کو بیک وقت دین کا فہم بھی دے رہے ہیں اور دنیا کے تقاضوں سے بھی آگاہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اختلاف کو علم کی حدود میں رکھیں، اصلاح کو تنقید پر مقدم کریں، اور ان تعلیمی اداروں کے لیے دعا گو بنیں جو امت کے نوجوانوں کے ایمان، شعور اور مستقبل کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ اداروں کو کمزور کرنا آسان ہے، مگر ادارے بنانا، سنبھالنا اور نسلیں تیار کرنا قربانی، اخلاص اور مسلسل محنت کا تقاضا کرتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر امت مضبوط ہوتی ہے اور دین کی خدمت حقیقی معنوں میں انجام پاتی ہے۔اور ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ:
ہر کسی کو جامعہ کا شرف یوں ملتا نہیں
میں نے کتنی راہ ڈھونڈھی پھر ملا دارالہدیٰ
میں بہت سے ملک میں دینی مدارس پر گھوما
سب سے اچھا ہے ہمارا جامعہ دارالہدیٰ
✍️ تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا