Translation unavailable. Showing original.
اسلام میں مسواک کرنے کی حکمت ؟
19 جنوری، 2026
اسلام میں اہتمامِ مسواک کی جتنی تاکید فرمائی گئی ہے اتنی قدر بے شمار حکمتیں اور فائدے اس میں پنہاں ہیں، مسواک ایسا محبوب ترین عمل ہے کہ عام حالات میں حسبِ موقع اور بوقتِ وضو ہونا ہی چاہیے، بالخصوص اوقاتِ نماز میں بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حکمت مسواک پر ڈانٹنے فرماتے ہیں کہ ’’لوگوں کو بار بار مسواک کرنا اور اجلا بنانا بڑے فوائد پر مبنی ہے‘‘۔ مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی نہایت ہی اہم اور عمدہ ہے کہ جب کسی عالمِ شان دربار میں جانا ہو تو قبل از حضور دربار ظاہری شکل و شباہت کا سنوارنا اور دانتوں کو صاف کرنا بھی بڑا ضروری ہے؛ کیوں کہ بات چیت کرتے وقت دانتوں کی زردی اور میل نظر پڑنے سے طبع سلیم کو نفرت ہوتی ہے، پس حکمِ الٰہی میں رب العالمین سے بڑھ کر کس کا دربار یا عالمِ شان ہو سکتا ہے؟ جس کے لئے یہ اہتمام کیا جائے۔ کیونکہ ’’إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ‘‘
ترجمہ: خدا تعالیٰ خوب ہے، اور وہ خوبی کو پسند کرتا ہے، سو جب یہ بات ٹھہری تو دانتوں کے میل اور بوئے دہن کو وہ کب پسند کر سکتا ہے؟ اس وجہ سے اعظم شعائر اللہ یعنی نماز پڑھنے سے پہلے جیسا کہ دیگر قاذورات اور میل میں پلید صاف کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے ایسا ہی دانتوں کے میل، منہ و مسوڑوں کی کثافت کو رفع کرنا بھی مستحسن ہے، یہی وجہ ہے کہ نماز سے پہلے مسواک کا استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ کہ تعظیم شعائر اللہ کے لئے جوارح اور جمالائے جاتے ہیں، ان سے جسمانی فوائد حاصل ہونے کے علاوہ اخروی اجر و ثواب بھی ملتا ہے۔
(۱) صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر و بیانہ)، حدیث:۳۵
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر بہت دنوں تک مسواک نہ کی جائے تو مسوڑھوں اور دانتوں میں بقایا غذا کے رہنے اور میل جم جانے سے منہ میں تعفن اور بدبو ہو جاتی ہے، اور جب انسان سجدہ اندر نمازوں میں جا کر کھڑا ہوتا ہے تو اس کی بو سے ان (نمازیوں) کو اور ارواحِ طیبہ (ملائکہ اللہ) کو ایذا پہنچتی ہے، اور پیام عند اللہ و عند الناس مقبوح و مکروہ ہے۔
صرف یہی نہیں؛ بلکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس پر ڈیوٹی ڈالی ہو اسے حضرت مولانا منظور نعمانی تحریر فرماتے ہیں: کہ جب کوئی بندہ مالک الملک اور حکم الحاکمین کے دربارِ عالی میں حاضری اور نماز کے ذریعہ اس سے مخاطبت اور مناجات کا ارادہ کرے اور یہ سوچے کہ اس کی عظمت و کبریائی کا حق تو یہ ہے کہ مشک و گلاب سے اپنے دہن و زبان کو دھو کر اس کا نام لیا جائے اور اس کے حضور میں کچھ عرض کیا جائے؛ لیکن چونکہ اس مالک نے اپنی عنایت و رحمت سے صرف مسواک ہی کا حکم دیا ہے، اس لئے میں مسواک کرتا ہوں۔ بہرحال جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے اس احساس اور ادب کے اس جذبہ سے نماز کے لئے مسواک کرے تو وہ نماز اگر اس نماز کے مقابلہ میں جس کے لئے مسواک نہ کی گئی ہو، ستر یا اس سے بھی زیادہ درجہ افضل قرار دی جائے تو بالکل حق ہے، حقیقت تو یہ ہے۔
نزار بار بشکیم دہن ز مشک و گلاب
ہنوز نام تو حقن کمال بے ادبی است
(۱) احکام اسلام عقل کے نظر میں: ۵۰
(۲) معارف الحدیث، ج ۳، ص ۳۹
مفتی صادق امین قاسمی