اسلام کی پہلی شہیدہ صحابیہ رضی اللہ عنہا
از قلم ۔محمد امیر الاسلام
اسلام کی پہلی شہیدہ صحابیہ رضی اللہ عنہا
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا وہ عظیم صحابیہ ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنی جان قربان کی اور تاریخِ اسلام میں پہلی شہیدہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ آپ نہ صرف صبر و استقامت کی علامت ہیں بلکہ ایمان کی وہ روشن مثال ہیں جو قیامت تک مؤمنین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
نسب اور خاندانی پس منظر
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق حبشہ یا یمن کے ایک غریب گھرانے سے تھا۔آپ کو مکہ کے بنی مخزوم کے سردار ابو حُذَیفہ بن مغیرہ نے باندی کے طور پر خریدا تھا۔انہی کی غلامی میں آپ کی شادی حضرت یاسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔آپ دونوں کے ہاں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، جو بعد میں جلیل القدر صحابی بنے۔
قبولِ اسلام
حضرت سمیہ، حضرت یاسر اور حضرت عمار رضی اللہ عنہم نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا، جب اسلام ابھی چند افراد تک محدود تھا۔
ان کے ایمان لانے کی بنیادی وجہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ حق کو دل سے تسلیم کرنا تھا۔اسلام قبول کرنے کے بعد بنو مخزوم کے سردار ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے ان پر شدید ظلم ڈھائے۔
صبر و استقامت کی مثال
آپ کے خاندان کو مکہ کے میدانِ ابطح میں کیکڑوں دھوپ میں باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے اور فرماتے:
“صَبْرًا يَا آلَ يَاسِرْ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ”
ترجمہ: "اے آلِ یاسر! صبر کرو، تمہارا وعدہ جنت ہے۔"
شہادت
ابوجہل نے حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو اسلام سے پھرنے پر مجبور کیا، مگر آپ نے نہایت جرات سے فرمایا:
“اسلام سچا ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں”۔
اس جواب نے ابوجہل نے ابوجہل غضبناک کوکر دیا، اور اس نے آپ کو نیزہ مار کر شہید کر دیا۔
یوں حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا اسلام کی پہلی خاتون شہیدہ بن گئیں۔
فضائل و عظمت
آپ کا نام قرآن کی ان آیات میں شامل اہلِ ایمان میں ہے جن کی تعریف کی گئی:
“وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ”
آپ کی شہادت نے ثابت کیا کہ ایمان مال و دولت سے نہیں بلکہ دل کی پختگی اور یقین سے قائم رہتا ہے۔حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کی قربانی نے مسلمانوں کے دلوں میں ایمانی جذبے کو مزید مضبوط کیا۔
آپ کا پیغام آج کے دور کے لیے
1. ثابت قدمی: ایمان پر ثابت رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
2. حق کی حمایت: ظلم کے سامنے خاموش نہ رہنا بلکہ حق بات کہنا۔
3. عورت کا مقام: اسلام نے عورت کو وہ عزت بخشی جس کی مثال حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کی قربانی میں ملتی ہے۔
الغرض حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ایمان، جرات اور قربانی کا روشن مثال ہے۔ آپ نے اسلام کی خاطر جان قربان کی مگر دین کے پرچم کو جھکنے نہیں دیا۔ ان کی داستان ہر مسلمان کے دل میں ایمان کی حرارت او
ر صبر کی قوت پیدا کرتی ہے۔