دارالعلوم دیوبند میں تو ١۵/ رجب المرجب کو ہی اسباق بند ہو جاتے ہیں، الا یہ کہ کسی استاذ کا کچھ نصاب باقی ہو، مگر یہاں مظاہر علوم سہارن پور میں ٢۵/ رجب المرجب تک اسباق کا سلسلہ چلتا ہے، اس کے بعد امتحان کی تیاری کے لیے باقاعدہ ١٢/١٣ دن کی تعطیل ہوتی ہے، تعطیل کے معنی یہ ہیں کہ ان میں باقاعدہ کسی أستاذ کا سبق ہوتا ہے اور نہ گھنٹوں کی ترتیب کا التزام، مگر مدرسہ میں حاضری بھی ضروری ہوتی ہے، جس کے لئے انتظامیہ نے باقاعدہ اعلان نکال رکھا ہے کہ ان دنوں میں کبھی بھی دفتری حاضری ہو سکتی ہے، نیز ان دنوں کے غیر حاضر طلبہ سالانہ امتحانات میں شرکت کے مجاز نہیں ہوں گے۔
مدارسِ اسلامیہ کے تمام ہی طلبہ کے لۓ یہ ایام کوہِ گراں ثابت ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کے بعد کسی کا درجہ تبدیل ہوجاتا ہے، درسی رفقاء پچھڑ جاتے ہیں، بعض اساتذہ سے دوری ہو جاتی ہے، درس گاہیں یادیں بن کر رہ جاتی ہیں، مدرسے تبدیل ہو جاتے ہیں، بعض کی مدرسہ کی باضابطہ تعلیمی زندگی سے فراغت ہو جاتی ہے، کوئی اس علمی سفر ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، وغیرہ وغیرہ
بشیر بدر کی زبانی:
یہ اک پیڑ ہے آ اس سے مل کے رو لیں ہم
یہاں سے تیرے مرے راستے بدلتے ہیں
راقم اب سے پہلے بھی ان غموم وہموم پر مشتمل ایام سے نبرد آزما ہو چکا ہے، شعبان المعظم ١٤٤٣ھ۔ مطابق مارچ 2022ء میں میوات کا مشہور ومعروف اور مقبول ادارہ جامعہ معدن العلوم جھمراوٹ(میوات) سے جدائی گرچہ اختیاری تھی، مگر فرقت کے آنسوؤں نے خوب رلایا اور غموں سے دو چار کیا، اختیاری کے اختیار کی وجہ سامنے بڑی منزل کا خواب تھا، جو بحمد اللہ پورا ہوا، ورنہ اس قدیم مادرِ علمی سے جو یادیں وابستہ ہیں، یہاں کے اساتذہ کی جو شفقتیں اور محبتیں ہیں، یہاں کے مربیین ومصلحین میں جو اخلاص ہے، یہاں کی تدریس میں جو ایک الفت وانسیت ہے، یہاں کے اہتمام میں جو سادگی اور آہ وزاری ہے، یہاں کے در ودیوار میں جو ایک بھینی بھینی سی خوش بو اور عجیب قسم کی کشش ہے، وہ کبھی بھی مجھے اس سے جدا نہیں کر سکتی۔
پھر اس کے بعد ایشاء کی عظیم دینی درس گاہ مادرِ علمی دار العلوم دیوبند سے بھی اللہ تعالی کے فضل وکرم سے تین سال تک فیض یابی کا موقع نصیب ہوا، دارالعلوم دیوبند میں رہتے ہوئے کبھی یہ احساس ہی نہ ہونے پایا کہ میں کسی دوسری جگہ ہوں، یہی وجہ ہے کہ کبھی اس طرف ذہن بھی نہیں گیا کہ دارالعلوم چھوڑ کر بھی مجھے کہیں اور جانا ہوگا، یوں ہی ہنستے کھیلتے ماہ وسال گزار دئے، مگر جدائی بھی بہر حال مقدر تھی، اس کا بھی ایک وقت متعین تھا، خواہی نہ خواہی ١٤٤٦ھ۔ کے رجب وشعبان کے وہ ایام بھی آ پہنچے، جب دارالعلوم سے فرقت کی باتیں ذہن وماغ پر چھانے لگی، جدائی کی گھڑیاں سر پر منڈلانے لگی، دل کی کیفیات کو نثر ونظم میں مربوط کرنے کی ناکام کوششیں کیں، کئ الوداعی ترانے لکھ کر دل کو بہلانا چاہا، مضامین کے ذریعہ جدائی کے بوجھ کو کاغذ کی سطور اور موبائل اسکرین پر لانے کی خیالی تصویریں باندھی۔
اِن دنوں پھر ایک بار ١٤٤٧ھ۔ کے رجب کے آخری ایام ہیں، وہی ساری پرانی کیفیات دل ودماغ کو تازہ کر رہی ہیں، فرقت وجدائی کی گھڑیاں تیزی کے ساتھ آنے کو بے تاب ہیں، ٢۵/رجب المرجب بہ روز جمعرات کو اسباق کا سلسلہ بند ہو چکا ہے، اساتذہ سے روزانہ کی درس گاہی زیارت وملاقات کے امکانات اب کم ہی نظر آتے ہی، ساتھیوں کا آپس میں گھنٹوں گھنٹوں تک باہم بیٹھ کر پڑھتے رہنا، شاید ہی کبھی دوبارہ لوٹ کر آئے، ٢۵/ رجب المرجب بہ روز جمعرات کو چوتھے گھنٹہ میں الاشباہ والنظائر کا آخری درس پڑھانے کے لئے استاذ الفرائض حضرت مولانا مفتی محمد علی حسن مظاہری نہٹوری حفظہ اللہ تعالی درس گاہ تشریف لاۓ، حضرت مفتی صاحب کی کیفیت بھی غمِ فرقت سے آراستہ نظر آ رہی تھی، چہرے پر ایک عجیب قسم کی مسکراہٹ مگر دلوں کو خیرہ اور آنکھوں میں اشک لانے والی گفتگو زبان سے جاری تھی، مسند پر بیٹھتے ہی یہ شعر پڑھنے لگے:
غنیمت جان لے مل بیٹھنے کو
جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے
سبق ختم ہوا، سبق کے بعد حاضری کا پرچہ نکالا، مگر اس دن حاضری کا طریقہ بھی خلافِ قیاس تھا، معلوم کیا کہ سب حاضر ہیں؟ اثبات میں جواب ملا تو بغیر نام پکارے ہی سب کی حاضری لگا دی، اس کے بعد رفیقِ درس مولوی محمد اسجد دھنبادی نے راقم کا لکھا ہوا الوداعی ترانہ اپنی مسحور کن آواز میں احباب کی سماعتوں کے حوالہ کیا، جسے سن کر سبھی احباب خوب ہی محظوظ ہوۓ، اس کے بعد حضرت مفتی صاحب نے چند نصیحتیں کی، مختصر سی دعا فرمائی اور یہ کہتے ہوئے ہم سے رخصت ہو گئے کہ جو طلبہ آج یہیں رہیں وہ بعدِ نمازِ مغرب گھر پر آ جانا۔
چناں چہ بعدِ نمازِ مغرب چند احباب کو چھوڑ کر جو گھر وغیرہ چلے گئے تھے، اکثر طلبہ حضرت مفتی صاحب کے پاس حاضر ہوئے، مفتی صاحب نے شان دار ناشتہ کرایا، بعدہ اپنی زمانۂ طالب علمی کے کچھ نوادرات اور علمی یادگار نقوش ہم شاگردان کی نظر کئے، نیز حضرت مفتی صاحب نے اپنا مرتب کردہ خلاصۃ الفرائض کا نقشہ بھی سبھی طلبہ کو ہدیۃً عنایت فرمایا، اسی دوران میں نے وہ الوداعی ترانہ جو صبح میں سبق کے ختم پر پیش کیا گیا تھا، فریم میں مربوط کرا کر حضرت مفتی صاحب کو پیش کیا، حضرت مفتی صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے محسوس ہو رہا تھا کہ آج مفتی صاحب بھی بہت زیادہ مغموم ورنجیدہ ہیں، آج گویا اپنے ان نااہل شاگردان (ہم طلبہ) کے لئے کلیجہ باہر نکال کر رکھ دیا ہے، ہر لفظ جو زبان سے نکل رہا تھا، اس میں عجیب قسم کی خوش بو اور اشکبار کرنے والا تحیر مخفی تھا، ہر لفظ گویا دل پر جا لگ رہا تھا، ساری گفتگو "از دل خیزذ بر دل ریزد" کا مصداق تھی، بالآخر استاذ وشاگردان کی یہ پیار ومحبت سے بھرپور محفل بھی اپنے اختتام کو پہنچی اور ہم تقریباً پونے دوگھنٹہ کی اس طویل علمی ومذاکرتی ملاقات کے بعد نم آنکھوں سمیت مفتی صاحب کے پاس سے رخصت ہو گئے۔
محتاجِ دعا: عبد اللہ یوسف
اواخرِ رجب المرجب/۱۴۴۷ھ
وسطِ جنوری ٢٠٢٦ء۔