💖 *محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بنیادی وجوہات*

✍️ ... *متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ*

اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا حقیقی مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پردل و جان سے عمل کرنا ہے۔

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات واجب الاطاعت ہے، اسی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں دنیوی و اخروی نجات مضمر ہے، اسی میں خدائے لم یزل کی رضا موجود ہے اور اسی پر انعام الٰہی کا وعدہ ہے۔ اﷲ کے رسول چوں کہ وحی الٰہی کے پیغام بر ہوتے ہیں، ان کی اطاعت درحقیقت اﷲ کی اطاعت شمار ہوتی ہے، مفہوم:’’جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی اس نے درحقیقت اﷲ کی اطاعت کی۔‘‘

اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے، مفہوم: ’’جس چیز کا میرا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہیں حکم دے وہ کام کرو اور جن باتوں سے روکے ان سے باز آجاؤ۔ ‘‘

یہ اس لیے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت سے بے انتہاء محبت ہے، بے پناہ شفقت ہے، بل کہ محبت و شفقت کے الفاظ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی قلبی کیفیات کو بیان کرنے سے قاصر ہیں، اس لیے قرآن کریم نے اس کو ’’حریص علیکم‘‘ سے تعبیر کیا ہے، تو جو ذات بے انتہاء اور بے پایاں شفقت و محبت کرتی ہو، ہمارے انجام سے بہ خوبی واقف ہو، بالخصوص جب کہ اس کی واقفیت وحی الہٰی اور مشاہدہ کی صورت میں ہو، تو وہ ذات لازمی طور پر اس قابل ہے کہ اس کی کامل اطاعت کی جائے۔

اور یہ اطاعت پیدا ہوتی ہے محبت کی انتہاء سے، جس قدر محبت میں کمال آتا جاتا ہے اسی قدر جذبۂ اطاعت باکمال اور لازوال ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور اس محبت کو پیدا کرنے کی بہت ضرورت ہے جو ہمیں حقیقت کے قریب کرے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر ابھارے، اﷲ کی فرماں برداری پر برانگیختہ کرے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ محبت کرنے کی جتنی وجوہات ہو سکتی ہیں وہ سب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہ درجہ اتم پائی جاتی ہیں:

*پہلی وجہ کمال*👇
اگر محبت کی وجہ کسی ذات کا باکمال ہونا ہے تو تمام کمالات میں مکمل کامل اور اکمل ذات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، عزت و عظمت، فضیلت و منقبت، شرف و مقام اور مرتبہ و کمال یہ سب کچھ اس باکمال ذات کا صدقہ ہے جن کی وجہ سے ان اوصاف کے حقائق سے دنیا واقف ہوئی ہے۔ عقل کامل، سوچ کامل، تدبر کامل، فکر کامل، شکر کامل، عبدیت کامل، انسانیت کامل، حیا کامل، سخا کامل، شجاعت کامل، وجاہت کامل، تمام اوصاف کامل۔

*دوسری وجہ احسان*👇
اگر محبت کی وجہ کسی ذات کا محسن ہونا ہے تو محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف مسلمانوں پر ہی نہیں تمام انسانوں پر بل کہ ساری مخلوقات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان عظیم ہے۔ احسان کا یہ سلسلہ عالم ارواح سے عالم آخرت تک پھیلا ہُوا ہے۔ عالَم ارواح میں جب اﷲ تعالیٰ نے تمام ارواح کو ایک جگہ جمع فرما کریہ سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب سے پہلے روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب عنایت فرمایا: کیوں نہیں! آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ آپؐ کا جواب سن کر تمام انبیاء کرام کی ارواح نے جواب دیا پھر درجہ بہ درجہ تمام ارواح نے اقرار کیا۔

عالم دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا نہ ختم ہونے والا طویل سلسلہ ہے، انسان کی تخلیق سے لے کر انسانیت کی معراج تک سب کچھ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے دم قدم سے ہے، وجہ تخلیق کائنات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ عالم آخرت چوں کہ سب سے بڑا عالَم ہے اس لیے اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان بھی سب سے بڑا ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ حساب و کتاب شروع فرمائیں گے، اتنا ہول ناک وقت ہوگا انبیائے کرام علیہم السلام تک نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے، صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک لبوں پر یارب امتی! یارب امتی! کی صدا ہوگی۔

 خدا تعالی کے جلال کو جمال میں بدلنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت طویل سجدہ فرمائیں گے، بالآخر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنا سر مبارک اٹھائیے، مانگیے آپ کو عطا کیا جائے گا، گناہ گاروں کی سفارش کیجیے آپ کی سفارش کو قبول کیا جائے گا۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میدان حشر میں جہاں کہیں اپنی امت کو مشکل میں دیکھیں گے وہاں آکر اﷲ تعالیٰ سے شفاعت کی درخواست کریں گے۔ اﷲ تعالیٰ آپ کی سفارش کو قبول فرما کر اس امت کے گناہ گاروں کو جہنم سے آزاد فرما کر جنت عطا فرمائیں گے۔ اتنے بڑے محسن کا حق بنتا ہے کہ آپ کی کامل اطاعت کی جائے تاکہ ہم آپؐ کی شفاعت کے حق دار بن جائیں۔

*تیسری وجہ جمال*👇
اگر محبت کی وجہ کسی کا خوب صورت ہونا ہے، حسین و جمیل ہونا ہے، تو کائنات میں سب سے زیادہ حسین و جمیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہے، آپؐ پیکر حسن و جمال، مجسم حسن و جمال، منبع حسن و جمال اور مرکز حسن و جمال ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے جلوؤں سے کائنات کا حسن اپنی روشنیاں بکھیر رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابانیاں اور رعنائیاں ہر سُو پھیل رہی ہیں، زمین و زمن، ارض و فلک، شمس و قمر اور شام و سحر الغرض خدا تعالیٰ کی تمام خدائی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال نے احاطہ کر رکھا ہے۔ قرآن کریم پڑھ کر دیکھ لیجیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک کس طرح حسن و جمال کی مالا میں پروئی ہوئی ہے۔

*’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘*

اس سے معلوم ہُوا کہ اگر وجہ محبت حسن و جمال بھی ہو تب بھی سب سے زیادہ محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرنی چاہیے۔

*چوتھی وجہ اخلاق* 👇
اگر محبت کی وجہ اخلاق و کردار ہے، تو پھر *انک لعلیٰ خلق عظیم* کے حقیقی مصداق ہی اس قابل ٹھہرتے ہیں کہ آپؐ سے محبت کی جائے، جس کے خلق عظیم کی گواہی قرآن کریم میں خالق کائنات خود دے رہے ہیں، ایسا بااخلاق انسان دنیا کہاں سے لائے گی جس کی اخلاق حسنہ کا اعتراف اس کے دشمن بھی کریں، صادق، امین، صلح جو، ہم درد، مونس و غم خوار اور سخی و فیاض ذات درحقیقت ذات حبیب کبریاء صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

الغرض وجوہ محبت کمالات ہوں یا احسانات، حسن و جمال ہو یا اخلاق و کردار ہر حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لیے اسوہ حسنہ ہیں۔ جب دل میں محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم موج زن ہو جائے تو اطاعت کرنا کوئی مشکل نہیں رہتا۔ آج ہمیں اپنے دل میں محبت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ محبت سے ہی اطاعت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور اگر محبت کو اطاعت کے قالب میں نہ ڈھالا جائے تو دعویٰ میں صداقت نہیں آ سکتی۔

📌 افسوس! آج ہم اس جذبۂ اطاعت سے دور ہو چکے ہیں، ہماری تنزلی آج بھی ختم ہو سکتی ہے اگر ہم بغاوت کو چھوڑ کر اطاعت کو اپنا لیں، اپنی زندگی کے ہر پہلو کو اطاعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھالیں، خوشی و غمی میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنائیں، مقصد بعثت رسالت پر غور کریں، سمجھیں، اور دل و جان سے عمل کریں۔

 اطاعت کے بغیر دنیا میں ناکامی ہوگی، اگر اپنی روش کو نہ بدلا تو یہی ناکامی کل قیامت کو حسرت کا روپ دھار لے گی پھر انسان کہیں گے:مفہوم: ’’اے کاش! ہم اﷲ کی اطاعت کرتے اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرتے۔‘‘

🤲 اﷲ تعالیٰ ہم سب کو اطاعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ عطا فرمائے، اسی جذبہ کے تقاضوں پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم