حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ قرآن کریم کا پہلا نزول ایک ہی دفعہ میں مکمل قرآن آسمان دنیا پر ہوا اور دوسرا نزول بتدریج آنحضرت ﷺ پر ہوا ۔
حضور ﷺ پر نازل کرنے سے پہلے آسمان دنیا پر یکبارگی نازل کرنے کی حکمت میں علماء نے لکھا ہے کہ اس سے قرآن کریم کی شان کی رفعت اور عظمت کی بلندی کا واضح کرنا مقصود تھا اور اس مقام کے فرشتوں کو بتانا تھا کہ یہ الله تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو اہل زمین کے لئے اتاری جانے والی ہے ۔
اور دو مرتبہ اتار کر یہ جتانا بھی مقصود ہے کہ یہ کتاب ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے ، حضور ﷺ کے قلب مبارک کے علاوہ دو اور جگہ بھی محفوظ ہے ایک لوح محفوظ میں اور دوسرے بیت عزت میں ۔
حوالہ: تحفہ حفاظ