تعلیم انسانوں کے درمیان امتیازی شناخت بخشنےکاذریعہ ہے ہر ملک کی ترقی اور تنزلی کا انحصار تعلیم پر ہی ہے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ زمانے میں کوئی بھی کارہائے نمایاں کو انجام دینا ہو تو سب سے پہلے علم کا حاصل کرنا ضروری ہے علم حاصل کرنا میں اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ دینی ملی اور سماجی فریضہ ہے تعلیم کا حصول مرد و عورت سب پر فرض ہے لیکن یہ بات واضح ر ہے کہ دور جدید میں تعلیم نسواں کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور زمانہ اس بات پر مکمل محنت کر رہا ہے لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جو 14 سال کی عمر تک ہم بلا تفریق مذہب اور صنف حصول تعلیم کے مفت اور لازمی تعلیم کے لئے(free and compulsory Education) کو رکھا گیا ہے ۔ تاہم اعلی تعلیم کی ضرورت سےبھی انکار نہیں یعنی اعلی تعلیم ایسی ہو کہ کسی بھی ثانوی تعلیم کے قانونی سطح پر دی گئی ایک باضابطہ تعلیم جو کہ ایک خاص مدت تک ہو اسے (Higher education) کہتے ہیں اقتصادی تحفظ ، مواقع، سماجی و سیاسی اور اقتصادی نظام میں خواتین ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں ثقافتی اور روایتی اقدامات میں بھی ایک خاتون بہتریں کردار ادا کر سکتی ہے عورت کی تعلیم اور شعور اور آگاہی پورے معاشرے کے لئے بہت ہی کار آمد ثابت ہوتی ہے اعلی تعلیم یافتہ عورت بچوں کی صحت، اور غذائیت اور تعلیم کا بہتر خیال رکھ سکتی ہے یہاں تک کہ جمہوری نظام میں خواتین کا نصف حصہ ہے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قدیم و روایتی تصور کو دور ترقی میں رد کر دیا گیا ہے اور خواتین کی ذہانت اور فعال رول کو پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے حکومتی ایجنسیز میں بھی خواتین کی شرکت کو نہ صرف پسند کیا گیا بلکہ پالیسی سازی میں سول سروسز میں ایجینسیوں کے تعاون کے لیے شرکت براہ راست یا بالواسطہ رسمی یا غیر رسمی ہوسکتا ہےیہ کام سماجی اور سیاسی یا انتظامی نوعیت کا ہو سکتا ہے معاشی اور تعلیمی خواندگی کے فروغ نیز عوام میں راےدہی کی گہرائی پیدا کرنے کا عمل بھی خواتین کے اعلی تعلیم ہونےکاکارہین منت ہے لیکن آج افسوس، اس بات کا ہے کہ سینکڑوں تعلیم نسواں بیداری کانفرنس ہونے کے باوجود مقالات و مجلات خواہ وہ اخبار کے ذریعے ہو یا پھر سوشل میڈیا کے ذریعے ملک کی ہر خاتون تک اس بات کو پہنچانے کی مکمل تگ و دو جاری ہےاور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جو روکاوٹیں اور مشکلات آتی ہیں ان کو رفع کرنے کے لیے سماجی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے قومی تعلیمی پالیسی(NEP) 2020کا مقصد 2035 تک کل GERبشمول پیشہ ورانہ تعلیم کو 50 فیصد تک بڑھانا ہے خواتین کی اعلی تعلیم کے حصول کے ہدف کو سہل بنانے کے باوجود ملک کی دیہی آبادی میں اعلی تعلیم کے حصول کے ذرائع کی کمی یا دیگر سماجی روایات کے اثرات کی وجہ سے خواتین اعلی تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں اس سلسلے میں بیداری مہم کی ضرورت ہے اور نیشنل اور انٹرنیشنل یونیورسٹی کے فاصلاتی نظام تعلیم کا تعارف کرانا ضروری ہے اگر طالبات معاشی کمزوری کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کی فیس ادا نہیں کر پاتی ہیں تو انہیں پوسٹ گریجویشن اسکالرشپ سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے الغرض نںٔی تعلیمی پالیسی میں فراہم کی گیی سہولیات اور نںٔی یونیورسٹیز کے قیام اور نظام اور مستحکم بنانے کی پالیسی سے امید ہےاس میں مزید اضافہ کا سبب بنے گی
جذبے کی کڑی دھوپ ہو تو کیا نہیں ممکن
یہ کس نے کہا سنگ پگھلتا ہی نہیں ہے