،قل اعوذ برب الناس، ملک الناس ،الہ الناس، من شر ، الوسواس الخناس ،الذی یوسوس فی صدور الناس ،من الجنۃ والناس
آپ کہ دیجیۓ کہ میں پناہ چاہتا ہوں لوگوں کے پروردگار کی ، لوگوں کے بادشاہ کی ، لوگوں کے معبود کی ، وسوسہ ڈالنے والے شیطان کے شر سے جو وسوسہ ڈالتا ہے لوگوں کے دلوں میں ، خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنوں میں سے
یہ سورت قرآن کریم کی فرشی ترتیب کے اعتبار سے آخری سورت ہے اور آغاز کی سورت سورۃ الفاتحہ ہے
غور طلب بات یہ ہے ان دونوں سورتوں میں کہ سورہ فاتحہ کا آغاز حرفِ ب سے ہے اور سورہ الناس کا ختم حرفِ س پر ہے ، حرفِ ب اور حرفِ س (دونوں)کے ضم کرنے سے ایک نتیجہ اخذ ہوتا ہے جو قابل توجہ اور قابل عمل بات ہے ، اور وہ ضم کی صورت میں لفظ، بس بفتحۃالباءوبسکون السین ، ہو جائے گا یعنی بس یہی قرآن مجید انسانوں کے رشد و ہدایت کے لئے کافی و وافی و شافی ہے