یہ دنیاخالق کا ئنات کی بے شمار قدرت اور کاریگری کا مظہر ہے جس ہیں قلم ایک بہت مضبوط اور طاقتور آلہ ہے جس کی قسم خالق کاںٔنات نے قران کریم میں کھاںٔی ہے اور سورہ قلم کو نازل کر کے اس کی اہمیت کو بیان کیا ہے قرآن کریم، احادیث مبارکہ کی کتابیں ، صحابہ کرام کے کارنامے، غرض تاریخِ انسانی میں ہونے والے تمام واقعات و نظریات کے نشیب فراز کو قلم کی ہی بدولت سپرد قرطاس کی جاتی ہے قلم سے وہ چیزیں تحریر کی جاتی ہیں جنکا مبدل موجود نہیں ہے۔ انسان کے ہاتھ میں ایک ایسا قیمتی اور انمول سرمایہ ہے جو تلوار سے تیز ہے، سورج کی گرم کرنوں، بندوق کی تیز رفتارگولی، اور سمندروں کی موجوں سے بھی زیادہ خطرناک اور طاقتور ہے۔ قلم نے دور قدیم سے سماج کی ترجمانی کی ہے۔ غرض ہر حال میں قلم کی عظمت اور اس کی عزت کو سامنے رکھ کر اس کے ذریعے امت کو نفع پہنچانا قلم کا بنیادی اصول ہے لیکن اگر قلم کو عقل و شعور کے استعمال نہ کیا تو یہ فتنہ کا بھی باعث بن سکتا ہے اس لئے صحیح وقت پر صحیح استعمال کرنا عقلمندوں اور با صلاحیت افراد کی ذمہ داری ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ دور حاضر میں قلم کی طاقت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہےتاریخ کے اوراق سے یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ قدیم دور میں بھی قلم جیسے طاقتور اور پر اثر شٔی کو ظالم حکمرانوں کی بداخلاقی اور بدکرداری کو بے نقاب کرنے بجائے اس کی حمایت کی ہے اور ملت کےلئے نقصان کھڑا کیا ہے واضح ہو کہ قلم کا غلط استعمال انسانیت کو اس طرح خاتمہ کر دیتا ہے جیسے کوںٔی وحشی جانور انسان پر حملہ کر کے اس کو موت کے گھاٹ قرار دےلہذا قلم جیسے طاقتور آلہ کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم غیر جانبداری سے کام لے قلم کا صحیح استعمال کریں قلم کا حق فتنہ جانبداری، جذبات وغیرہ سے نہیں ادا ہو گا بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں دلوں میں قلم کی اہمیت کو بتا یں اور اس کی طاقت کے بارے میں امت کو بتایں تاکہ قلم کا غلط استعمال کرنے والے لوگوں سے ہماری قوم محفوظ رہے

ہم پرورشی لوح و قلم کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔ 
جودل پہ گزرتی ہےرقم کرتے رہیں گے۔۔۔ یہ دنیاخالق کا ئنات کی بے شمار قدرت اور کاریگری کا مظہر ہے جس ہیں قلم ایک بہت مضبوط اور طاقتور آلہ ہے جس کی قسم خالق کاںٔنات نے قران کریم میں کھاںٔی ہے اور سورہ قلم کو نازل کر کے اس کی اہمیت کو بیان کیا ہے قرآن کریم، احادیث مبارکہ کی کتابیں ، صحابہ کرام کے کارنامے، غرض تاریخِ انسانی میں ہونے والے تمام واقعات و نظریات کے نشیب فراز کو قلم کی ہی بدولت سپرد قرطاس کی جاتی ہے قلم سے وہ چیزیں تحریر کی جاتی ہیں جنکا مبدل موجود نہیں ہے۔ انسان کے ہاتھ میں ایک ایسا قیمتی اور انمول سرمایہ ہے جو تلوار سے تیز ہے، سورج کی گرم کرنوں، بندوق کی تیز رفتارگولی، اور سمندروں کی موجوں سے بھی زیادہ خطرناک اور طاقتور ہے۔ قلم نے دور قدیم سے سماج کی ترجمانی کی ہے۔ غرض ہر حال میں قلم کی عظمت اور اس کی عزت کو سامنے رکھ کر اس کے ذریعے امت کو نفع پہنچانا قلم کا بنیادی اصول ہے لیکن اگر قلم کو عقل و شعور کے استعمال نہ کیا تو یہ فتنہ کا بھی باعث بن سکتا ہے اس لئے صحیح وقت پر صحیح استعمال کرنا عقلمندوں اور با صلاحیت افراد کی ذمہ داری ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ دور حاضر میں قلم کی طاقت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہےتاریخ کے اوراق سے یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ قدیم دور میں بھی قلم جیسے طاقتور اور پر اثر شٔی کو ظالم حکمرانوں کی بداخلاقی اور بدکرداری کو بے نقاب کرنے بجائے اس کی حمایت کی ہے اور ملت کےلئے نقصان کھڑا کیا ہے واضح ہو کہ قلم کا غلط استعمال انسانیت کو اس طرح خاتمہ کر دیتا ہے جیسے کوںٔی وحشی جانور انسان پر حملہ کر کے اس کو موت کے گھاٹ قرار دےلہذا قلم جیسے طاقتور آلہ کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم غیر جانبداری سے کام لے قلم کا صحیح استعمال کریں قلم کا حق فتنہ جانبداری، جذبات وغیرہ سے نہیں ادا ہو گا بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں دلوں میں قلم کی اہمیت کو بتا یں اور اس کی طاقت کے بارے میں امت کو بتایں تاکہ قلم کا غلط استعمال کرنے والے لوگوں سے ہماری قوم محفوظ رہے

ہم پرورشی لوح و قلم کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔
جودل پہ گزرتی ہےرقم کرتے رہیں گے۔۔۔