طوفان احمری

طوفان احمری

دیوبندی
ہم دشت کے باسی ہیں اے شہر کے لوگو یہ روح پیاسی ہمیں ورثے میں ملی ہے دکھ درد سے صدیوں کا تعلق ہے ہمارا یہ آنکھوں کی اداسی ہمیں ورثے میں ملی ہے جاں دینا روایت ہے قبیلے کی ہماری یہ سرخ لباسی ہمیں ورثے میں ملی ہے

کوئی مضمون نہیں ملا

تمام مضامین دیکھیں
App Icon
صدائے قلم ایپ موبائل پر بہترین اور آسان مطالعے کے لیے
انسٹال کریں