🏆 معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان اسباب، اثرات اور عملی حل

معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان ۔ اسباب اور اسکا حل

Nabila Samrin Mohd Majid Shaikh
04 Feb 2026
عنوان : معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان ۔ اسباب اور اسکا حل۔

اللہ رب العزت انسانوں کا خالق مالک اور رازق ہے۔لہذا اسی کی عبادت کی جائے اسی کی بڑائی اور پاکیزگی بیان کی جائے۔اللہ تعالی قران پاک میں ارشاد فرماتا ہے"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کرے". نماز سے مراد وہ عبادت ہے جس کا دن میں پانچ مرتبہ ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "بے شک مسلمان اور کافر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے"۔قران میں 80 سے زائد مقامات پر نماز کا حکم ایا ہے اور اسے مومنین کی خاص صفت قرار دیا ہے۔سورہ روم ایت 31 میں اللہ تعالی فرماتا ہے"اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں سے نہ ہونا"۔نماز ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ۔نماز اخرت میں نجات کا ذریعہ ہے نماز انسانوں کو گناہوں سے بچاتی ہے۔روز قیامت پہلا سوال نماز کی بارے میں ہوں گا۔نماز کسی بھی حالت میں معاف نہیں گرمی،سردی،حالات امن یا خوف،تندرستی و بیماری حتی کہ میدان جنگ میں بھی معاف نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ"نماز دین کا ستون ہے جس نے نماز قائم کی اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے نماز ترک کی اس نے دین کو چھوڑ دیا". نماز اور مسلمان لازم و ملزوم ہیں. نماز کے بغیر ایمان اور اسلام کا کوئی تصور نہیں. نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دیگر احکامات جیسے روزہ حج زکوۃ زمین پر بھیجے گئے مگر نماز کا حکم معراج میں دیا گیا. نماز اللہ رب العزت کی طرف سے مومن کو دیا ہوا انمول تحفہ ہے. 
         نماز کی اہمیت اور اس کا مرتبہ کہ وہ جنگ کی حالت میں بھی معاف نہیں۔سفر اور روح نکلنے سے پہلے بھی یہ فریضہ فرض ہے تو کیسے ہم نماز سے غفلت برتتے ہیں۔پانچ وقت کی نماز کے لیے مشکل سے دو صف مکمل ہوتی ہے جس میں تقریبا ضعیف لوگ نظر اتے ہیں۔ہمارے نوجوان مسجد کی بجائے مسجد کی سیڑھی،چوراہوں،نکڑ اور مختلف کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔نوجوانوں کے نزدیک نماز کی کوئی اہمیت نہیں موذن حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح پکارتا ہے اواز کانوں میں گونجتی ہے مگر مسجد کی طرف قدم نہیں اٹھتے کیونکہ دلوں سے خوف خدا اٹھ گیا رب سے محبت ہی نہیں۔دنیا اتنی حاوی ہے کہ مرنے کا خوف ہی نہیں۔مشغولیات ایسی ہے کہ رب کے حضور سجدے کا اس کے حضور پیشی کا احساس ہی نہیں۔
           ترستی ہے نگاہیں پھر سے ایسے نوجوانوں کو 
         اذانی جو دیا کرتے ہیں تلواروں کی چھاؤں میں 
          کمال بندگی سے خلوت اباد تھی جن کی 
          نمایاں تذکرے ہوتے تھے جن کے پارساؤں میں۔۔۔۔۔۔۔

معاشرے میں بے نمازیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اس کی کئی وجوہات ہیں۔سب سے اہم دین سے دوری ہے۔ہمارے محلے،ہمارے گھر،کے ماحول میں دینداری نہیں۔بزرگ ہی نماز کی پابند نہیں دو بچے جوان کیسے نمازی ہو سکتے ہیں۔گھر کے بڑے اذانوں کے اوقات میں موبائل اور مختلف کاموں میں مصروف ہوتے ہیں تو بچے کیسی نماز کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال نماز میں مانع ہے۔رات بھر موبائل پر مختلف گیمز, ریل وغیرہ کے استعمال نے نماز کی محبت چھین لی ہے۔پھر نماز کے راستے میں نیند بھی رکاوٹ ہے کیونکہ ہمیں نماز سے بہتر نیم لگتی ہے۔مائیں بچوں کو اسکول،ٹوٹر کے لیے تو بیدار کرتی ہے مگر نماز کی اوقات میں نہیں۔ہمیں گھر کی ذمہ داری کا تو احساس ہے مگر یہ جان ومال کے مالک کا حق یاد نہیں۔اب تو لوگوں کی تعداد جمعہ کی نماز میں بھی کم ہوتی جا رہی ہے سلام پھیرتے ہی نماز سے غائب نمازی سنت اور نوافل کے لیے وقت نہیں کیونکہ ہماری نمازوں میں خوش و خضوع نہیں۔ہمارے تقریبات میں نماز کے موقع شامل نہیں اور خواتین کو تو تقریبات میں جیسے نماز معاف ہے کیونکہ وضو کرنے سے میک اپ نکل جائیں گا مہندی ڈریسز خراب ہوں گے۔اس کے علاوہ ہمارا نفس بھی نماز کے راستے میں مانع ہے ۔ہم نفس کے غلام ہو چکے ہیں سستی،غفلت،دین کا شعور اور نماز کی اہمیت کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ نماز اور جماعت سے دور ہو رہے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"جس نے بالشت بھر جماعت سے الائدگی اختیار کی تو اس نے اپنی گردن سے اسلام کی رسی اتار دی"(ترمذی) جماعت سے دوری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی دنیا کی محبت اللہ کی محبت میں مانع ہے ۔والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ جماعتوں کے چکر میں نہ پڑے ورنہ اس کے مستقبل کو خطرہ ہوں گا۔مال اور دنیا کی ارائشوں کی پیچھے انسان بھاگ رہا ہے اور حقیقت کو بھولا بیٹھا ہے۔
اللہ تعالی قران میں ارشاد فرماتا ہے کہ"نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے". نماز انسان میں عاجزی و انکساری پیدا کرتی ہے نماز بندے کو بلند ترین درجے تک پہنچاتی ہے نماز پڑھنے سے انسان غرور اور تکبر سے محفوظ رہتا ہے. نماز بندے اور رب کی براہ راست تعلق کا ذریعہ ہے. نمازی انسان کے ساتھ اللہ کی رحمت برکتیں اور فضل و کرم شامل ہوتا ہے. نماز سے انسان کا ظاہر اور باطن پاک و صاف ہوتا ہے. نماز انسان کو وقت کا پابند بناتی ہے اور بندے کو ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے. باجماعت نماز پڑھنے سے اتحاد و اتفاق پیدا ہوتا ہے. حصول رزق کا ذریعہ نماز ہے اور مشکل وہ پریشانی میں بندہ نماز اور صبر سے مدد لیتا ہے. نمازی کو دنیا و اخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور بے شمار فوائد نمازی کو حاصل ہوتے ہیں. اس کے برعکس بے نمازی کے لیے قران و حدیث میں سخت وعید ائی ہوئی ہے. بے نمازی پر سی اللہ کی رحمت کا سایہ اٹھ جاتا ہے اور کائنات کی ساری چیزیں اس پر لعنت بھیجتی ہے. بے نمازی کا دل سخت اور وہ گناہوں برے کاموں میں ملوث ہو جاتا ہے حدیث میں ہے کہ"بے نمازی کی دعا قبول نہیں ہوتی". ذلت و رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے. وہ کوئی بھی نیک عمل کرے اس کا اجر اسے نہیں ملتا. بے نمازی کی قبر میں اندھیرا اور وحشت ہوں گی. اس کی عمر سے برکت اٹھ جاتی ہے. نمازی کی نحوست 70 گھر تک جاتی ہے اور شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے. اخرت میں اس کا ٹھکانہ جہنم ہے. 

      ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا حل موجود نہ ہو ضرورت اس پر غور و فکر اور عملی تدابیر اختیار کرنے کی۔
*نمازی انسان کو چاہیے کہ وہ بے نمازی کو نماز کی اہمیت سمجھائے صرف اپنی نماز کی پرواہ نہ کرے بلکہ اپنے بھائی کی بھی فکر کرے۔
*ہمیں چاہیے کہ پڑوسی, محلے, اطراف کے لوگوں کو بھی نماز کی دعوت دے کیونکہ قران میں اللہ پاک کا ارشاد ہے"نماز قائم کرو"اس لیے ہمیں اس اہم فریضے کی ادائیگی کے لیے کمر بستہ ہونا پڑے گا. 
*سب سے اہم کردار اس میں والدین کا ہے کہ بچوں کو نماز کے لیے ویسی ہی عادت ڈالیں جیسے اسکول, ٹوٹر کی عادت ڈالتے ہیں. بچپن سے انہیں نماز کی اہمیت اور ساتھ لگا کر نماز پڑھنے کی عادت ڈالی. نماز کے اوقات میں سارے کام چھوڑ کر اذان کو غور سے سنیں اور اول وقت میں نماز ادا کریں اس سے خود بخود بچوں میں نماز کا رجھان پیدا ہوں گا. اسی طرح اگر بچے جوان ہیں تو ان کے بیگ میں جائے نماز ڈالی اور ان سے وقت پر نماز پڑھنے کی تاکید کرے. اسکول کالج سے اج بعد بچوں سے نمازوں کا حساب لیں نماز چھوڑنے پر بچوں کو کھانا نہ دے. سوتے وقت سب ایک دوسرے سے پانچ وقت کی نماز کا حساب لے. 
*مختلف گروپس تشکیل دیں جو نمازوں کے اوقات میں پھیری لگائیں فجر سے لے کر عشاء تک کال کر کے نمازوں کی یاد دہانی کرائے. 
*سوشل میڈیا کا استعمال جس میں بہت کارامد ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بچہ, بوڑھا, جوان ہر کوئی اس کا استعمال کر رہا ہے. مختلف ویڈیوز, کلپس, ریلز بنا کر ڈالی جائے جس میں نماز کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے. 
*ہمارے گھروں میں گھروں کے باہر,, چوراہوں پر نماز کے تعلق سے احادیث ہر قرانی ایات چسپاں کی جائے۔جیسے مختلف بینرز اور اسٹیکرز۔۔۔۔۔۔
*امام و خطیب نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالے. 
*مسجد میں ائی بچوں کو ڈانٹ پھٹکار نہ کرے کیونکہ یہی قوم کا مستقبل ہے ڈانٹ پھٹکار سے بچے مایوس ہو جاتے ہیں اور مسجد کا رخ نہیں کرتے اگے چل کر یہ بچے بے نمازی نکلتے ہیں. 
*مدارسوں میں معلم بچوں کو نماز کی فہرست دے اور مہینے کی پوری نماز مکمل کرنے پر مختلف انعامات سے نواز ے اور ان کی حوصلہ افزائی کریں.
* مہمات کے ذریعے بھی نماز کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔
           وہ ایک سجدہ جسے تو گرا ں سمجھتا ہے 
          ہزار سجدوں سے دیتا ہے ادمی کو نجات
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.