🏆 معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان اسباب، اثرات اور عملی حل

معاشرتی مسائل ۔ نمازکی اہمیت اوراسکاحل

محمد انصار کریمی قاسمی
04 Feb 2026
(1) *پہلا سوال لوگ نماز سےدور کیوں ہورہےہیں* 
پہلے سوال کا جواب👇
 (١)دینی تعلیم وتربیت کا فقدان- 
 آج ہم مسلمان جس زوال، بے راہ روی اور دینی غفلت کا شکار ہیں ، اس کی اصل جڑ خوفِ خدا کا فقدان ہے۔ جب دل سے اللہ کی عظمت اور آخرت کا احساس نکل جاتا ہے تو انسان گناہوں کو معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت اچانک پیدا نہیں ہوتی بلکہ صحیح تعلیم و تربیت نہ ہونے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ
یعنی اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔
جب علم اور تربیت کمزور ہو تو دل کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں، جیسا کہ قرآن میں فرمایا:
وَلَٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ۔
ایسے میں انسان عبادت، خصوصاً نماز سے دور ہو جاتا ہے، حالانکہ نماز ہی وہ عمل ہے جو دل میں اللہ کا خوف زندہ رکھتا ہے۔
(٢)لمبی امیدیں۔ نیکی کےکام میں غفلت کاسبب بنتی ہیں انسان یہ سوچ کر اپنی نماز قضا یا ضایع کردیتاہےکہ ابہی ٹائم باقی ہےابہی تو اذان لگی ہی ہے ابہی تو زندگی باقی ہے آخری وقت میں نماز پڑھوں گا آخری عمر میں نمازی بن جاؤنگا یہ سب شیطان کی چال اور اسکےڈھکوسلےہیں حلانکہ ہمیں ہرنمازکو آخری نماز سمجھ کر پڑھنا چاہیے لیکن ہم ہر نماز کو یہ سمجھ کر پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ اسکو ادا کردوں مگر کل سےٹھیک سےپڑھوونگا ہماری کل آتی نہی ہے اورہماری نماز میں جان وخشوع وخضوع نہی ہے اس سےنماز بےجان ہوجاتی ہے اورنماز ہمیں بددعاء دیتی ہے جس بددعاء کےسبب ہم کبھی کبھار نماز پڑھنےوالےیاجلد جلد نماز بڑھنےوالےبہی بےنمازی ہوجاتے ہیں 
(٣)گناہوں کی عادت ۔ دراصل ہمارےنوجوانوں کو گناہوں کی عادت بن گئ ہےگناہوں کی شیطانی لذت میں مبتلا ہو کر انسان بہت سےنیک اعمال سےمحروم ہوجاتاہےدل کی سختی کی وجہ سے نیکی کی کوئ بات اثر انداز نہی ہوتی اسکو خیرکی طرف چلنا کا نمازپڑھنے کا دل ہی نہی کرتا مسجد میں چلا بہی جایےتو اسے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے حلانکہ مؤمن کی مثال مسجد میں ایسی ہے جیسے پانی میں مچھلی کی ہوتی ہےجب تک مچھلی پانی میں ہےتو زندہ ہےاسی طرح جب تک مؤمن مسجد میں رہتاہےاسےروحانی غذا ملتی ہے
(٤)جہالت ۔ کچھ بندےایسےبہی ہیں جنکےپاس نماز ہی نہی آتی اور اگر انکا جمعہ وغیرہ کےبیان سےبنتابہی ہےتو انکےنمازیادنہی وہ شرم کی وجہ سے کسی سےکہتےبہی نہی ہیں مگر یہ سب والدین کی کمی اورانکی غلطی ہےکیونکہ انہوں نے انکو بچپن میں دینی علوم سےمحروم رکھا مگر اب ان جیسے نوجوانوں کو اپنی مسجدکےامام سے رجوع کرناچاہیے وہ ہی اسکا سب سے بہتر حل بتاسکتے ہیں
(٥)صحبت بد۔ صحبت بدسےہمیشہ بھاگ تو ورنہ بن جایگا کالا ناگ تو نماز چھوڑنے کی ایک وجہ بری رنگت اوربری صحبت بہی انسان جیسی صحبت اختیار کرتاہےرفتہ رفتہ ایسااثرآجاتاہےاور ہمارےنوجوان اہل علم ائمہ مساجد اور دینی لوگوں کی صحبت سےمحروم ہیں اور نشہ کرنےوالے گانابجانےوالے ٹک ٹوکروں کی صحبت حاصل ہے جس سے ہمارےبچےہمارا معاشرہ دن بدن خراب ہوتا جارہاہے بےنمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے اس لیے اچھی صحبت کو اختیار کیا جایے۔۔

(2) *دوسرے سوال کا جواب* 
*نمازچھوڑنےکےدینی و دنیاوی نقصانات*
حقوق العباد میں کوتاہی : نماز خالصًا رب تعالٰی کی رضا پانے کے لیے ادا کی جاتی ہے اور حقوق اللہ میں سے ایک حق نماز بھی ہے۔ لیکن جو شخص حقوق اللہ ادا نہ کرتا ہو بھلا وہ حقوق العباد کیسے ادا کرے گا ؟ ایسے شخص پربھروسہ کرنا بھی مشکل اور ممکن ہے کہ بے نمازی حقوق العباد میں کوتاہی کے سبب دنیا والوں کے سامنے بھی برا ہو جائے اور آخرت کا معاملا بھی برا ہو ۔جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اس کا نام جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگاسب سے پہلے قیامت کے دن بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا،اگر یہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی ٹھیک رہیں گے اور یہ بگڑی تو سبھی بگڑے۔بے نمازی کی عمر سے برکت ختم کر دی جاے گی،اس کی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی اور نیک بندوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا۔الله پاک فرماتا هے: فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں(ضائع کیں)اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔ (پ16،مریم: 59)
نماز نہ پڑھنے کے دنیوی نقصانات: (1) اس کی عمر سے برکت اٹھا لی جاتی ہے یعنی اس کی زندگی بے برکت ہوتی ہے۔ (2) نیک لوگوں کی نشانی اس کے چہرے سے مٹا دی جاتی ہے۔ (3)ایسا شخص جو بھی نیکی کرے گا اللہ پاک کے ہاں ثواب نہ پائے گا۔بے نمازی کے مال میں بے برکتی ہوتی ہے۔

4)بے نمازی بے حیائی اور دیگر گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

5)بے نمازی کبھی بھی قلبی سکون نہیں پاسکتا۔

6)بے نمازی پر معاشرہ اعتبار نہیں کرتا۔

یماریوں کا خدشہ : نماز ادا کرنے کے لیے وضو لازم ہےاور وضو کرنا جسمانی بیماریوں کے خاتمے کا سبب ہے ۔ مثلًا ہائی بلڈ پریشر، ڈپریشن ، فالج ، پاگل پن ، جلد کی بیماریاں، آنکھ کی بیماریاں وغیرہ ۔ جو شخص نماز کا تارک ہو تو خدشہ ہے کہ وہ وضو جیسے بابرکت عمل سے محروم ہونے کی وجہ سے مختلف امراض میں مبتلا ہو جاۓ۔ اسی لیے بلاشبہ یہ بھی نماز نہ پڑھنے کا ایک دنیاوی نقصان ہے

(3) *تیسرا سوال: نمازی بنانےکاحل*
اس فقیر کے نزدیک تیسرے سوال کا جامع اور عملی جواب یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنی زندگی کو قرآنِ کریم کے اس بنیادی حکم کے تابع کر لے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
(التحریم: 6)
یعنی: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔
یہ آیت محض وعظ نہیں بلکہ ایک مکمل منصبی ذمہ داری ہے۔ جس طرح انسان دنیاوی اعتبار سے اپنی ذات اور اہل و عیال کی خوراک، لباس، تعلیم اور رہائش کو اپنا فرض سمجھتا ہے، اسی طرح بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر اسے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی اخروی ضروریات ایمان، نماز، اخلاق اور تقویٰ—کی تکمیل کو بھی اپنا فرض یقین کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے صرف خود بچنے کا نہیں بلکہ دوسروں کو بچانے کا بھی حکم دیا ہے۔ اسی لیے قرآن میں فرمایا:وأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا(طٰہٰ: 132)
اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ محض نصیحت کافی نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور عملی نمونہ ضروری ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اس ذمہ داری کو یوں واضح فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ بخاری، مسلم)
تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
یعنی باپ، ماں، استاد، اور ہر صاحبِ اختیار شخص پر لازم ہے کہ وہ صرف دنیا کی فکر نہ کرے بلکہ ایمان و عبادت کی حفاظت بھی کرے۔
اگر انسان دنیا کے نقصان سے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے رات دن محنت کرتا ہے تو پھر جہنم کے نقصان سے بچانے کے لیے اس سے کہیں زیادہ فکر مند ہونا چاہیے۔ یہی وہ سوچ ہے جو فرد کو بھی سنوارتی ہے اور خاندان کو بھی۔
لہٰذا کامیابی کا راستہ یہی ہے کہ ہر مسلمان اپنی زندگی کا نصب العین یہ بنا لے کہ پہلے خود اللہ کا فرماں بردار بنے، پھر محبت، حکمت اور عملی نمونے کے ساتھ اپنے اہل و عیال کو نماز، تقویٰ اور دین کی طرف بلائے۔ یہی قرآن کا پیغام ہے اور یہی نبی ﷺ کا طریقہ ہے
(٢)اچھی صحبت ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”لَاتُجَالِسْ أھلَ الأہواءِ فَانَّ مُجَالَسَتَہُمْ مُمَرِّضَةٌ لِلقلبِ“ بروں کی صحبت میں نہ بیٹھو ؛اس لیے کہ ان کی صحبت دل اور روح کو بیمار کردیتی ہے ۔
 بروں کی صحبت دین وایمان کو تباہ کردیتی ہے اور انسان کو راہِ حق سے منحرف کردیتی ہے ،بروں کودوست رکھنے والا قیامت میں پشیمان اور شرمندہ ہوگا ،وہ کہے گا کہ اے کاش میں نے فلاں شخص کو اپنادوست نہ بنایاہوتا، اس نے مجھے حق حاصل ہونے کے بعد راہِ حق سے پھیر دیا ۔ وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْہِ یَقُولُ یَا لَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلاً یَا وَیْلَتَی لَیْتَنِی لَمْ أَتَّخِذْ فُلَاناً خَلِیلاً لَقَدْ أَضَلَّنِی عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ إِذْ جَائنِی (الفرقان:۲۷-۲۹) ترجمہ: اور جس دن ناعاقبت اندیش ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کھائے گااور کہے گاکہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا۔اے کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا،اس نے مجھ کو کتاب نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا۔
 نیکوں کی صحبت بگڑے ہووں کو سنوار دیتی ہے ،
ان کی صحبت وہم نشینی کے بغیر نیکیوں کی طرف دل کارجحان و میلان نہیں ہوسکتا اور نہ گناہوں کی نفرت دل میں پیداہوسکتی ہے؛ اس لیے قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کو مخاطب کرکے کہا: ”یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ وَکُونُواْ مَعَ الصَّادِقِینَ“ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ایسے لوگوں کی معیت وصحبت اختیار کرو جو اپنے اقوال وافعال اور ایمان میں سچے ہیں ۔ 
دوسری جگہ ارشاد ہے: ”وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْہَہُ“ اے نبی اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جمائے رکھیے جوشب وروز خداکی طاعت وعبادت میں مصروف رہتے ہیں ،جو فقط خداکی خوشنودی چاہتے ہیں اور اس کی مرضی پر رضامند رہتے ہیں۔
  مولاناروم رحمت اللہ علیہ نے صالحین کی صحبت کے اثرات کو اس طرح بیان فرمایاہے :
یک زمانہ صحبتے با اولیاء
بہتر از صدسالہ طاعتِ بے ریا
ہرکہ خواہی ہم نشینی باخدا
او نشینید صحبتے با اولیاء
  
اولیاء کرام کی صحبت میں گذارے ہوئے لمحات سوسالہ بے ریا عبادت سے بھی بڑھ کر ہیں ۔جو اللہ تعالی کی قربت کی تمنااور آرزورکھتاہے اسے چاہیے کہ صالحین کی صحبت اختیار کرے ۔ بعض عارفین کاقول ہے: ”کونوا مع اللّٰہ فان لم تقدروا فکونو مع من یکون مع اللّٰہ“ ترجمہ:اللہ کی معیت اختیار کرواگراس کی قدرت نہ ہو تو اہل اللہ کی صحبت اختیار کرو۔
فتنوں کے دورمیں موجودہ دور فتنوں کی طغیانی کاہے ،ذرائع ابلاغ کی وسعت،سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقیات، بے حیائیوں کے فروغ اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جانے والے فحش لٹریچر نے اخلاقی طور پر معاشرے کو تباہی کے دہانے پر کھڑاکردیا ہے،ایسے وقت میں اس کی اشد ضرورت ہے کہ اخلاقی اور روحانی قدروں کو فروغ دیا جائے۔اخلاقی انحطاط کا سدباب کیا جائے، بری صحبت اوربرے ماحول سے خود بھی بچاجائے اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی تلقین کی جائے۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.